پاکستان کے جعلی پاسپورٹ پر بیرون ملک جانیوالے ایرانی اور افغان شہری گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایرانی شہریوں خالد بلوچ اور محمد عارف پاکستانی پاسپورٹس پر قطر روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں کے پاسپورٹس پر ورک ویزے بھی موجود تھے، تاہم تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں افراد نے جعلی دستاویزات کے ذریعے یہ پاسپورٹ حاصل کیے۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) امیگریشن نے کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے تین غیر ملکی شہریوں کو مشکوک سفری دستاویزات اور جعلی پاکستانی پاسپورٹس پر سفر کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کرلیا۔ ایف آئی اے کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایرانی شہریوں خالد بلوچ اور محمد عارف پاکستانی پاسپورٹس پر قطر روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں کے پاسپورٹس پر ورک ویزے بھی موجود تھے، تاہم تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ دونوں افراد نے جعلی دستاویزات کے ذریعے یہ پاسپورٹ حاصل کیے۔ ملزمان نے مبینہ طور پر ایک ایجنٹ کو ایک لاکھ دس ہزار روپے کی ادائیگی کے بدلے یہ پاسپورٹس حاصل کیے تھے۔
ایک اور کارروائی میں ایف آئی اے نے افغان شہری کو بھی حراست میں لیا، جو جعلی پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے سعودی عرب جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ گرفتار مسافر، امین، غیر قانونی طور پر چمن بارڈر عبور کرکے پاکستان میں داخل ہوا اور بعد ازاں کوئٹہ پہنچ کر مبینہ ایجنٹ سے جعلی پاسپورٹ حاصل کیا۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق تینوں ملزمان کو ابتدائی تفتیش کے بعد اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں ملوث ایجنٹس کی تلاش بھی شروع کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستانی پاسپورٹ پاسپورٹس پر ایف آئی اے کی کوشش
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔