طلبہ و طالبات کیلئےہزاروں نئی سکالرسپس کی منظوری، اچھی خبر آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
محکمہ تعلیم سندھ نے طلبہ و طالبات کی سال 24-2023 کے لئے نئی 2723 اسکالرسپس کی منظوری دے دی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی شاہ کی زیر صدارت سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ کا اجلاس ہوا جس کی صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے بحیثیت چیئرمین سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ کے بورڈ آف ٹرسٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی سال 24-2023 کے لئے نئی 2723 اسکالرسپس کی منظوری دی گئی۔ SEEF بورڈ اجلاس میں 4877 طلبہ و طالبات کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسکالرشپ کی تجدید کی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ SEEF اسکالرشپ کے تحت سندھ سے تعلق رکھنے والے طلباء کو ملک بھر کی 90 یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپ دی جا رہی ہیں۔
SEEF کا کل سرمایہ 9.
صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ غریب اور ہونہار طلباء کی اعلیٰ تعلیم میں مدد کے لیے قائم کیا گیا، SEEF اسکالرشپ کی مدد سے سندھ کے طلباء ملک بھر کی سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد غریب اور ہونہار نوجوان کو اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے یونیورسٹیز کے وائس چانسلز کے بطور بورڈ میمبرز کی عدم حاضری پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: سید سردار علی شاہ طلبہ و طالبات کی تعلیم حاصل کے لیے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک