بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے برطرف ملازمین کی مشروط بحالی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
کراچی(نیوز ڈیسک) سندھ ہائیکورٹ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ملازمین کو مشروط طور پر بحال کردیا۔
نجی چینل کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ملازمین کی بحالی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی جس سلسلے میں سرکاری وکیل اور دیگر حکام پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملازمین کوبیگمات اور عزیز و اقارب کو فنڈز سے نوازنےکےالزام میں برطرف کیاگیا۔
ملازمین کے وکیل نے کہا کہ بی آئی ایس پی ملازمین نے اختیارات سے تجاوز کرکےکسی کو فائدہ نہیں پہنچایا، جن ملازمین نے بیگمات کو فنڈز دیے ان کی تنخواہیں امداد کی شرط کی حد سے کم ہیں، قانون میں ممانعت نہیں کہ اپنےمستحق رشتے داروں کوبی آئی ایس پی کارڈ نہیں دیاجاسکتا۔
سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ ملازمین کی بحالی کے بعد ان کے خلاف قواعد کے مطابق انکوائری ہوگی جو تین ماہ میں مکمل ہوگی، اس دوران تنخواہ بحال نہیں ہوگی اور اگر انکوائری تین ماہ میں مکمل نہیں ہوئی تو تنخواہ کی ادائیگی شروع ہوجائے گی۔
اداکارہ ریحام رفیق کو ٹک ٹاک ویڈیو پر تنقید کا سامنا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔