لیاری واقعہ: 27 جانیں نگلنے والے سانحے کے بعد سوالیہ نشانات اور متاثرین کی فریاد
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) لیاری میں رہائشی عمارت کے المناک انہدام کے 60 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن کا اختتام ہو گیا ہے، اور جائے حادثہ سے بھاری مشینری ہٹا لی گئی ہے۔ یہ سانحہ اپنے پیچھے 27 انسانی جانوں کے ضیاع کا داغ چھوڑ گیا ہے، جن میں 16 مرد، 9 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر کا تعلق ہندو برادری سے تھا۔ تاہم، ریسکیو آپریشن کے خاتمے کے بعد یہ اہم سوال اب بھی باقی ہے کہ اس دلخراش سانحے کا ذمہ دار کون ہے۔حادثے کے بعد لیاری میں آج اداسی، خاموشی اور ویرانی چھائی ہوئی ہے۔ جہاں کل تک قہقہے گونجتے تھے، آج وہاں پھٹی ہوئی کتابیں، خالی بستے، جوتے، ٹوٹے پھوٹے برتن اور رکشوں و موٹر سائیکلوں کی باقیات بکھری پڑی ہیں۔ یہ تباہ شدہ اشیاء ان بے شمار زندگیوں کی نشان دہی کر رہی ہیں جو اس حادثے کی نذر ہو گئیں۔ٹی وی اسکرینوں پر نظر آنے والا ایک خالی جیومیٹری باکس، جو کسی اسٹور سے نہیں بلکہ اسی ملبے سے ملا، انعمتا نامی ننھی پری کا ہے جو اس حادثے کے بعد بے گھر ہو گئی ہے۔ ملبے کے ڈھیر سے صرف یہ ڈبیا ہی نہیں بلکہ اس کی ایک کاپی اور رپورٹ کارڈ بھی ملا ہے جس میں اس نے امتحانات میں A1 گریڈ حاصل کیا تھا۔ انعمتا کا خوابوں سے بھرا خالی بستہ بھی جائے حادثہ سے ملا، جو اس کے روشن مستقبل کے بکھر جانے کی علامت ہے۔اس دلخراش حادثے نے کئی خاندانوں کو بے آسرا کر دیا ہے۔ ایک متاثرہ رکشہ ڈرائیور نے فریاد کی ہے کہ اس حادثے نے اس کے بچوں کی روزی روٹی چھین لی ہے۔ اس کا واحد ذریعہ معاش، اس کا رکشہ بھی ملبے تلے دب کر تباہ ہو گیا ہے۔ وہ نم آنکھوں سے حکومت سے اپیل کر رہا ہے کہ “حکومت پیسے نہ دے، کم سے کم رکشہ دے دے تاکہ روزگار کا بندوبست ہو جائے۔ میرے تو ہاتھ ہی ٹوٹ گئے ہیں (یعنی اب کچھ کمانے کے قابل نہیں رہا)۔” اندازہ ہے کہ متاثرہ عمارت کے ملبے تلے دب کر 50 سے زائد رکشوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ریسکیو آپریشن کے خاتمے کے بعد، متاثرین اور عوام کی نظریں اب حکام کی طرف ہیں کہ اس عمارت کے انہدام کے ذمہ داروں کا تعین کب ہو گا۔ یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ ناقص تعمیرات، حکومتی عدم توجہی، یا کسی اور غفلت کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا؟ متاثرہ خاندان انصاف اور اپنے نقصانات کے ازالے کے منتظر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔