تل ابیب میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، غزہ جنگ بندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
شرکاء نے کہا کہ صرف سیاسی مفادات کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ایک تباہ کن اور انسانی المیے کا باعث بن رہا ہے، جس سے ناصرف فلسطینی بلکہ اسرائیلی عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہزاروں افراد نے غزہ میں جاری جنگ کے خلاف اور قیدی بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی بازیابی کے لیے فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومتی پالیسیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور زور دیا کہ حکومت فوری طور پر جنگ بندی کا معاہدہ کرے، تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ صرف سیاسی مفادات کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ایک تباہ کن اور انسانی المیے کا باعث بن رہا ہے، جس سے نا صرف فلسطینی بلکہ اسرائیلی عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے ممکنہ جنگ بندی منصوبے پر بات چیت کے لیے اپنی کابینہ میں شامل دائیں بازو کے اتحادی رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو مشاورت کے لیے بلا لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب نیتن یاہو کے خلاف اندرون ملک عوامی احتجاج اور بین الاقوامی دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔