تل ابیب میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، غزہ جنگ بندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
شرکاء نے کہا کہ صرف سیاسی مفادات کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ایک تباہ کن اور انسانی المیے کا باعث بن رہا ہے، جس سے ناصرف فلسطینی بلکہ اسرائیلی عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہزاروں افراد نے غزہ میں جاری جنگ کے خلاف اور قیدی بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کی بازیابی کے لیے فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومتی پالیسیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور زور دیا کہ حکومت فوری طور پر جنگ بندی کا معاہدہ کرے، تاکہ انسانی جانوں کا مزید ضیاع روکا جا سکے۔ شرکاء نے کہا کہ صرف سیاسی مفادات کے لیے اس جنگ کو جاری رکھنا ایک تباہ کن اور انسانی المیے کا باعث بن رہا ہے، جس سے نا صرف فلسطینی بلکہ اسرائیلی عوام بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے ممکنہ جنگ بندی منصوبے پر بات چیت کے لیے اپنی کابینہ میں شامل دائیں بازو کے اتحادی رہنماؤں ایتمار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کو مشاورت کے لیے بلا لیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب نیتن یاہو کے خلاف اندرون ملک عوامی احتجاج اور بین الاقوامی دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔