جے ڈی سی سربراہ کی گاڑی کی ٹکر سے 2 نوجوان شدید زخمی‘ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شارع پاکستان، انچولی کے قریب ایک تیز رفتار سیاہ ریوو گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل پر سوار 2 نوجوان شدید زخمی ہو گئے‘ ڈرائیور عرب رضا کوگرفتارکرلیاگیا۔یہ گاڑی معروف فلاحی تنظیم جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ حادثے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے نمبر پلیٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب، سمن آباد تھانے کی حدود میں شارع پاکستان، انچولی کے قریب پیش آنے والے اس حادثے میں 18 سے 19 سال کی عمر کے دو نوجوان، عبدالاحد ولد محمد حنیف اور حنیف ولد ابراہیم، شدید زخمی ہوئے۔ یہ دونوں نوجوان آپس میں کزن اور عزیز آباد، محمدی کالونی کے رہائشی ہیں۔ حادثے کے فوری بعد ریوو گاڑی کی نمبر پلیٹ (ایل ایچ 0110) موقع پر گر گئی جسے شہریوں نے اٹھا لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔