جے ڈی سی سربراہ کی گاڑی کی ٹکر سے 2 نوجوان شدید زخمی‘ڈرائیور گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شارع پاکستان، انچولی کے قریب ایک تیز رفتار سیاہ ریوو گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل پر سوار 2 نوجوان شدید زخمی ہو گئے‘ ڈرائیور عرب رضا کوگرفتارکرلیاگیا۔یہ گاڑی معروف فلاحی تنظیم جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفر عباس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ حادثے کے بعد ڈرائیور گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے نمبر پلیٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔اتوار اور پیر کی درمیانی شب، سمن آباد تھانے کی حدود میں شارع پاکستان، انچولی کے قریب پیش آنے والے اس حادثے میں 18 سے 19 سال کی عمر کے دو نوجوان، عبدالاحد ولد محمد حنیف اور حنیف ولد ابراہیم، شدید زخمی ہوئے۔ یہ دونوں نوجوان آپس میں کزن اور عزیز آباد، محمدی کالونی کے رہائشی ہیں۔ حادثے کے فوری بعد ریوو گاڑی کی نمبر پلیٹ (ایل ایچ 0110) موقع پر گر گئی جسے شہریوں نے اٹھا لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔