ایس آئی ایف سی کا دوسرا سال: شفاف معیشت، زیرو ٹالرنس پالیسی کے نفاذ پر خصوصی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کے دوسرے سال میں کرپشن، اسمگلنگ اور ٹیکس چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے گئے۔
سیمنٹ، تمباکو، کھاد اور چینی کی صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا نفاذ کیا گیا۔
ایف بی آر کی رواں مالی سال کے دوران 8.45 ٹریلین روپے ٹیکس وصولی ہوئی، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ ہے۔
ایس آئی ایف سی کی بدولت صرف مارچ میں 1.
انسداد اسمگلنگ مہم میں 23 ملین لیٹر ایرانی تیل، 10,447 میٹرک ٹن کھاد اور 3,547 ٹن گندم و آٹا ضبط کیا گیا۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر کارروائیاں، ہزاروں میٹرک ٹن کھاد، گھی اور چینی برآمد کی گئی۔
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت پاکستان کی معیشت شفافیت، اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس آئی ایف سی
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔