اسلام آباد:

پاکستان میں عیدالاضحیٰ کب ہوگی  اور ذوالحج  کے چاند کے حوالے سے اہم  پیش رفت سامنے آئی ہے۔

ملک میں عید الاضحیٰ کی ممکنہ تاریخ پر قیاس آرائیاں ختم ہونے کو ہیں۔ ذوالحج کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اہم اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

محکمہ موسمیات اور سپارکو کے مطابق آج شام چاند کی عمر صرف 11 گھنٹے ہوگی، جو فلکیاتی اصولوں کے مطابق رویت کے لیے ناکافی تصور کی جاتی ہے۔ اسی بنیاد پر ماہرین کا کہنا ہے کہ آج چاند نظر آنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

سپارکو نے پیش گوئی کی ہے کہ یکم ذوالحج 29 مئی کو ہونے کا امکان ہے اور اگر یہی حساب برقرار رہا تو ملک بھر میں عیدالاضحیٰ ہفتہ 7 جون 2025 کو منائی جا سکتی ہے۔

اُدھر بین الاقوامی سطح پر بھی چاند کی رویت پر نظریں مرکوز ہیں۔ سعودی عرب میں بھی آج ہی ذوالحج کے چاند کی تلاش کے لیے فلکیاتی اجلاس ہوگا۔ سعودی ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ مقامی حالات کے مطابق چاند آج دکھائی دینے کی توقع ہے، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہاں عیدالاضحیٰ 6 جون بروز جمعہ کو منائی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات کے فلکیاتی مرکز نے بھی اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ چاند نظر آنے کے واضح امکانات موجود ہیں۔ اگر چاند آج نظر آ گیا تو یو اے ای میں بھی عید کی تاریخ 6 جون ہو سکتی ہے۔

اس طرح دنیا بھر میں عید کی ممکنہ تاریخوں میں ایک دن کا فرق متوقع ہے، جو رویت ہلال کے انحصار پر ہے۔ پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کی حتمی اعلان کا انتظار عوام شدت سے کر رہے ہیں تاکہ وہ قربانی اور عید کی دیگر تیاریاں مکمل کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف