پاکستان کی جوہری صلاحیت امن کی ضامن ہے، مسلح افواج کا یوم تکبیر پر پیغام
اشاعت کی تاریخ: 27th, May 2025 GMT
یوم تکبیر کے 27 سال مکمل ہونے پر عسکری قیادت نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے مادر وطن کے دفاع کیلیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں یومِ تکبیر کی 27 ویں سالگرہ کے موقع پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس پاکستان کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر 1998 میں اس تاریخی موقع کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن بحال کیا اور اپنے دفاعِ خودی کے حق کا اظہار کیا۔ یہ عظیم کامیابی قوم کے عزم، اتحاد اور باوقار و پُرامن وجود کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیت قومی امانت ہے، جو عوام کی اجتماعی امنگوں کی عکاس ہے۔ یومِ تکبیر کی یاد منانا بصیرت افروز قیادت کے وژن، ہمارے سائنسدانوں اور انجینئروں کی ذہانت، اور اُن سب کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔
مسلح افواج نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر اور یہ ہمارے مستند کم از کم دفاعی حکمتِ عملی کے اصول کی توثیق کرتا ہے جو خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کے قیام پر مبنی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کرتی ہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہم اپنے اس تزویراتی اثاثے کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے مختص رکھتے ہیں اور یہ امن کے ضامن کے طور پر موجود ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئیے اس دن کو ہمارے عزم کی تجدید کے طور پر منائیں کہ ہم اپنے وطن کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد، چوکنا اور ثابت قدم رہیں گے۔
پاکستان کی مسلح افواج قوم کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہیں اُن قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہیں جنہوں نے اس سنگِ میل کو ممکن بنایا اور استحکام، خودانحصاری اور طاقت کی جانب سفر کو جاری رکھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی مسلح افواج کرتی ہیں کے دفاع کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔