یوم تکبیر کے 27 سال مکمل ہونے پر عسکری قیادت نے قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے مادر وطن کے دفاع کیلیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں یومِ تکبیر کی 27 ویں سالگرہ کے موقع پر مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس پاکستان کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کرتی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یومِ تکبیر 1998 میں اس تاریخی موقع کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان نے ایٹمی طاقت بن کر جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن بحال کیا اور اپنے دفاعِ خودی کے حق کا اظہار کیا۔ یہ عظیم کامیابی قوم کے عزم، اتحاد اور باوقار و پُرامن وجود کی مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی تزویراتی صلاحیت قومی امانت ہے، جو عوام کی اجتماعی امنگوں کی عکاس ہے۔ یومِ تکبیر کی یاد منانا بصیرت افروز قیادت کے وژن، ہمارے سائنسدانوں اور انجینئروں کی ذہانت، اور اُن سب کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

مسلح افواج نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر اور یہ ہمارے مستند کم از کم دفاعی حکمتِ عملی کے اصول کی توثیق کرتا ہے جو خطے میں امن اور تزویراتی استحکام کے قیام پر مبنی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر خطرے کے خلاف اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کرتی ہیں۔ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہم اپنے اس تزویراتی اثاثے کو صرف دفاعی مقاصد کے لیے مختص رکھتے ہیں اور یہ امن کے ضامن کے طور پر موجود ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئیے اس دن کو ہمارے عزم کی تجدید کے طور پر منائیں کہ ہم اپنے وطن کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے متحد، چوکنا اور ثابت قدم رہیں گے۔

پاکستان کی مسلح افواج قوم کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرتی ہیں اُن قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہیں جنہوں نے اس سنگِ میل کو ممکن بنایا اور استحکام، خودانحصاری اور طاقت کی جانب سفر کو جاری رکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی مسلح افواج کرتی ہیں کے دفاع کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل