مودی بھی زور لگائے گا اور پی ٹی آئی بھی کچھ نہیں کر سکیں گے، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد (آئی این پی )وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ مودی بھی زور لگائے گا اور پی ٹی آئی بھی لیکن کچھ نہیں کرسکیں گے ، معرکہ حق میں مودی کا دھڑن تختہ ہوا اور پی ٹی آئی کا بھی نقصان ہوا ہے، معرکہ حق دراصل حق و باطل کی لڑائی تھی، معرکہ حق کا نتیجہ خدانخواستہ کچھ اور ہوتا تو پی ٹی آئی آسمان سر پر اٹھا لیتی۔ ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی والے بڑی باتیں کررہے ہیں لیکن کچھ نہیں کرسکیں گے، بات کرنے سے کسی کو نہیں روکا جاسکتا، تحریک چلانا پی ٹی آئی والوں کا کام نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کی کامیابی ہوئی اسی لیے پوری قوم فخر کررہی ہے، نقصان کی بھرپائی کرنے کیلئے پی ٹی آئی تحریک چلانے کی کوشش کریگی۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ مودی بھی بھڑکیں لگارہا ہے یہ کچھ نہیں کرسکیں گے، پی ٹی آئی اب کچھ بھی نہیں کرسکے گی یہ ریکارڈ پررکھ لیں۔انہوں نے کہا پی ٹی آئی کا مقصد صرف بانی پی ٹی آئی کو جیل سے باہر لانا ہے تو یہ کوئی نظریہ نہیں، بانی پی ٹی آئی کو صرف جیل سے باہر لانا ہے تو پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت ہے تو سیاسی جماعتوں کیساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے، تحریک ا نصاف کو چارٹر آف ڈیموکریسی کرنی چاہیے، ملکی مسائل پر بات کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔