ہماری جوہری صلاحیت دفاعی مقاصد کیلئے اور امن کی ضامن ہے، سربراہان پاک افواج
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
آئی ایس پی آر کے مطابق یوم تکبیر خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ثابت قدم عزم کو اجاگر کرتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج تمام خطرات کیخلاف مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مسلح افواج، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس نے پاکستانی عوام کو یوم تکبیر پر دلی مبارکباد پیش کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یوم تکبیر اس موقع کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان ایک جوہری طاقت کے طور پر ابھرا، یہ تاریخی کامیابی قوم کے عزم، اتحاد اور پرامن وجود کیلئے جستجو کی مظہر ہے، پاکستان کی سٹریٹجک صلاحیت ایک قومی امانت ہے، جو عوام کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دن خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے ثابت قدم عزم کو اجاگر کرتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج تمام خطرات کیخلاف مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری جوہری صلاحیت صرف اور صرف دفاعی مقاصد کیلئے ہے اور یہ امن کی ضامن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔