پاکستان اس مرتبہ یوم تکبیر اہم اور تاریخی موقع پر منارہا ہے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنے 27 سال مکمل ہوگئے، پاکستان اس مرتبہ یوم تکبیر ایک اہم اور تاریخی موقع پر منارہا ہے۔
یوم تکبیر کے موقع پر پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اللّٰہ کے فضل و کرم سے 6 تا10 مئی کے معرکہ حق میں فتح یاب ہوا، بھارت کی مسلط کردہ جنگ میں سرخرو ہو کر نکلے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ فتح مبین سے سرشار قوم کیلئے یوم تکبیر کی مسرتوں میں مزیداضافہ ہوگیا، رب کے حضور سجدہ شکر، جس نے ہمیں اپنے خصوصی کرم سے ہمیشہ سربلند رکھا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مئی 1998 میں بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کرکے ہماری سلامتی، دفاع اور خودمختاری کو چیلنج کیا تھا، نواز شریف نے6 دھماکے کرکے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا۔
اس وقت نواز شریف نے قوم کی امنگوں، مفادات کی ترجمانی کی، وزیراعظم اقتصادی پابندیوں، دباؤ ،دھمکیوں اور لالچ کو خاطر میں نہ لائے، نواز شریف نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کو ہمیشہ کیلئے ناقابل تسخیر بنادیا، چاغی کے پہاڑوں سے اللّٰہ اکبر کی صدا آج بھی پاکستانی قوم کا عہد بن کرگونج رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہی شاندار روایت بھارت کےحالیہ بلاجواز حملوں کے خلاف قوم نے ایک مرتبہ پھر دہرائی، جوہری پروگرام کیلئے بے پناہ قربانیاں دینے پر قوم کو سلام پش کیا۔
وزیراعظم نے ذوالفقارعلی بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، سائنسدانوں اور انجینئرز سمیت افواج پاکستان، قومی اداروں اور ایٹمی پروگرام میں حصہ ڈالنے والے معماروں کو سلام پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ جوہری اثاثوں کی بھرپورحفاظت کرنے پر مسلح افواج کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں، یوم تکبیر قوم کے اتحاد، آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کے اعلان کا دن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: یوم تکبیر نے کہا کہ شریف نے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔