data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوالالمپور:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہاہے کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمدﷺ کا لایا ہوا نظام ہی دنیا کو انتشار اور فساد سے بچا سکتا ہے۔ اسلام ہمدردی اور خیر خواہی کا دین ہے۔ مسلمان دنیا میں امن کے قیام کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں مگر امریکہ اسلام دشمنی میں ہر جگہ مسلمانوں کے قتل عام کی سرپرستی کررہا ہے۔

انسانیت کو جنگ و جدل اور خون خرابے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں اللہ کی مرضی کا نظام قائم ہو۔ اوور سیز پاکستانی فلسطین و کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملائشیا میں سیرت النبیﷺ کانفرنس سے خطاب اور صوبہ الورستار کداہ اور ہرلیس کے وزرا اعلیٰ محمد سنوسی محمد نور، محمد شکری رملی اور ملائیشیا کی پاس پارٹی کے سینیٹر مصدق سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس سے نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عطا الرحمن، اسلامک سرکل آف ملائیشیا کے صدر ڈاکٹر محمد حیات اور سیکریٹری جنرل سجاد اکبر نے بھی خطاب کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ٹرمپ ہر جگہ جنگیں ختم کرانے کے دعوے کررہے ہیں مگر اسی امریکہ نے اسرائیل کو فلسطین میں قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے اور ایران پر بلاجواز حملہ کیا۔ مسلم ممالک میں امریکی مداخلت اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ انہیں اپنے آئین و قانون کے مطابق فیصلوں سے روک دیتا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں امریکی مداخلت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پاکستان میں امریکہ نے ہمیشہ مارشل لاﺅں اور غیر جمہوری قوتوں کی سرپرستی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان سمیت اسلامی دنیا کی آزادی اور خود مختاری کے بڑے مقصد کے حصول کی جدوجہد کررہی ہے اور اس جدوجہد میں اوور سیز پاکستانی بڑا مو ¿ثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے ملک میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ اس نے 88ءمیں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد بھی کوئی پیشگی انتباہی نظام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔اگر حکمرانوں کو ملک اورعوام کو بچانے کی کوئی فکر ہوتی تو اتنی بڑی تباہی نہ آتی۔

با اثر طبقے نے اپنے علاقوں کو بچانے کیلئے سیکڑوں دیہات اور لاکھوں لوگوں کو سیلاب کی نذر کردیا۔ لاکھوں ایکڑز پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور ہزاروں مویشی ڈوب گئے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن اور بدیانتی حکمرانوں کی رگوں میں رچ بس چکی ہے۔ اگر ان لوگوں کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا تو یہ اپنے مفاد کیلئے عوام کو نقصان نہ پہنچاتے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پر لوگ غیر متزلزل اعتماد رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کی خدمت کررہی ہے۔ ہم آئین و قانون کی بالاستی پر یقین رکھتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی طرف عوام کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی بہت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے بچانے کی

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی