Daily Ausaf:
2026-07-24@05:58:40 GMT

فیلڈ مارشل، پی ایل17 اور ’’بلف گیم‘‘

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جب سے فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالا ہے بھارت میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے، خوف و ہراس کی اس کیفیت میں اس وقت بدترین صورتحال پیدا ہو گئی کہ جب بھارت کو یہ اطلاع ملی کہ پاکستان پی ایل 15سے بھارت کے 5جدید لڑاکا طیارے گرانے کے بعد اب پی ایل 17کے حصول کے لئے چین کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے لڑاکا طیاروں جے ایف 17تھنڈر اور جے 10 سی میں ضروری اپ گریڈیشن کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات پاکستان کی دفاعی پالیسی کا سنگ بنیاد ہیں اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے اس تعلق کو جو نئی جہتیں اور نئی بلندیاں عطاء کی ہیں ان کی زیادہ تر تفصیل ابھی تک مخفی ہے اور یہی رازداری وہ بڑا خوف بن چکی ہے کہ جس کی وجہ سے بھارت پر لرزہ طاری ہے۔ اسی رازداری اور مخمصے نے حالیہ 4 روزہ جھڑپ میں بھارت کو چاروں شانے چت کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا کیونکہ بھارت سمجھتا تھا کہ چین نے پاکستان کو پی ایل 15کا ایکسپورٹ ورژن پی ایل 15 ای فراہم کیا ہے اور پاک فضائیہ کی طرف سے چین کے زیر استعمال پی ایل 15حاصل کرنے کے دعوے محض ایک بلف گیم ہیں، یاد رہے کہ پی ایل 15ای یعنی ایکسپورٹ ورژن کی رینج 145 کلومیٹر جبکہ چین کے زیر استعمال پی ایل 15کی رینج 300 کلومیٹر ہے۔
اس مخمصے نے حالیہ جھڑپ میں بھارت کو دھول چٹائی اور یہی وہ ’’بلف گیم‘‘ہے کہ جس کی وجہ سے مودی سرکار ایک بار پھر عجیب شش و پنج میں ہے، وہ پاکستان کیخلاف نئی جارحیت کا ارتکاب کرنا چاہتی ہے لیکن راولپنڈی اسلام آباد میں پاکستانی فوج کی قیادت اور میزائلوں دونوں کی ’’اپ گریڈیشن‘‘نے اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑائے ہوئے ہیں، ایک طرف افواج پاکستان کے سربراہ عاصم منیر فور اسٹار سے فائیو اسٹار جنرل بن چکے ہیں تو دوسری طرف پاکستان پی ایل 15 سے آگے بڑھ کر پی ایل 17حاصل کر رہا ہے جس کی رینج 400 کلومیٹر تک ہے۔پاک فضائیہ کے شاہینوں نے چین سے حاصل کردہ 4.

5 جنریشن کے جدید لڑاکا طیارے J-10 C کے ذریعے PL-15 میزائل استعمال کرتے ہوئے بھارت کے تین رافیل، ایک سخوئی SU-30MKI اور ایک میراج 2000 طیارہ مار گرائے، اس بڑی کامیابی نے بھارت کی فضائی برتری کے دعوئوں اور بڑے دفاعی بجٹ کی وجہ سے حاصل نفسیاتی برتری کو پاش پاش کر کے رکھ دیا ہے۔ اب پاکستان چین کے ایک اور جدید ترین میزائل PL-17 کے حصول پر کام کر رہا ہے۔ یہ میزائل نہ صرف PL-15 سے کہیں زیادہ جدید ہے بلکہ اس کی رینج 400 کلومیٹر کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ PL-17 ہے کیا؟ اور موجودہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کے لئے اس کے فوری حصول کی اہمیت کیا ہے؟ کہا یہ جا رہا ہے کہ بھارت کو تو پی ایل 15نے ناک آئوٹ کرکے رکھ دیا اگر پاکستان پی ایل 17حاصل کر لیتا ہے تو بھارتی فضائیہ کا بنے گا کیا؟ اور وہاں پاک فضائیہ سے کتنے برس مزید ’’پسماندہ‘‘ہو کر رہ جائے گی؟ اس حساب کتاب نے مودی سرکار کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔پی ایل 17 کو پراجیکٹ 180 اور پی ایل 20بھی کہا جاتا ہے، یہ چین کا جدید ترین بی وی آر (Beyond Visual Range) ایئر ٹو ایئر میزائل ہے، جو انتہائی دور فاصلے پر دشمن کے ہوائی جہاز، ایواکس، فضائی ٹینکر جہاز اور دیگر فضائی اثاثوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تقریبا ً 6میٹر طویل یہ میزائل انرشیل نیویگیشن، جی پی ایس،بی ڈو اپڈیٹس، ہائی پاور AESAریڈار سیکر، اور ڈیٹا لنک سے لیس ہے جو اسے انتہائی دور سے بھی درست نشانہ لگانے کے قابل بناتے ہیں، پی ایل 17میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار میک 4 سے تجاوز کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اسے انٹرسیپٹ کرنا دنیا کے جدید ترین طیاروں کے لئے بھی بہت ہی مشکل ہے، یہ رفتار تقریباً 3,000میل فی گھنٹہ یا لگ بھگ 4,800کلومیٹر فی گھنٹہ کے برابر ہے جس کا جنوبی ایشیاء میں تاحال کوئی توڑ نہیں۔
(جاری ہے)

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کی وجہ سے بھارت کو پی ایل 15 کی رینج کے لئے چین کے رہا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار