نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے کینسر کی تشخیص و علاج کی سہولتیں فراہم کر رہے ہیں: پی اے ای سی
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پرامن اطلاق سے کینسر کی تشخیص اور علاج میں تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
پی اے ای سی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں قائم 20 کینسر اسپتال تشخیص و علاج کی جدید سہولتیں فراہم کر رہے ہیں، تقریباً 80 فیصد پاکستانی کینسر کے مریض ان اسپتالوں سے مستفید ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 6 جوہری پاور پلانٹس سے 3 ہزار 530 میگاواٹ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ ایک نے 400 دنوں تک مسلسل بجلی پیدا کر کے قومی ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ویانا پاکستان کے نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اور.
پی اے ای سی کے مطابق زیر تعمیر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 تکمیل کے بعد 1,200 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی فیصل آباد رنگین کپاس تیار کر رہا ہے۔ یہ ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معاون مرکز کے طور پر بھی پہچان حاصل کر چکا ہے۔
پی اے ای سی اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پُرامن استعمال سے پائیدار ترقی کے فروغ کےلیے کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پی اے ای سی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔