چشمہ نیوکلیئر پلانٹ کا یونٹ 5 بارہ سو میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا کہنا ہے کہ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 تکمیل کے بعد 1200 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔
نجی ٹی وی جیونیوز نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے اعلامیے کے حوالے سے بتایا کہ 6 جوہری پاور پلانٹس سے 3 ہزار 530 میگا واٹ سستی اور ماحول دوست بجلی پیدا کی جا رہی ہے، چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 1 نے 400 دنوں تک مسلسل بجلی پیدا کر کے قومی ریکارڈ قائم کیا۔اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیر تعمیر چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ یونٹ 5 تکمیل کے بعد 1ہزار 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔
اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں قائم 20 کینسرہسپتال تشخیص و علاج کی جدید سہولیات فراہم کر رہے ہیں، پاکستان کے تقریباً 80 فیصد کینسر کے مریض ان ہسپتالوں سے مستفید ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ نیوکلیئر انسٹیٹیوٹ فار ایگریکلچر اینڈ بائیولوجی فیصل آباد رنگین کپاس تیارکر رہا ہے، یہ ادارہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معاون مرکز کے طور پر بھی پہچان حاصل کر چکا ہے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کے پر امن استعمال سے پائیدار ترقی کے فروغ کیلئے کلیدی کردار ادا کرتے رہیں گے۔
مخصوص نشستوں پر نظرثانی کا کیس؛مسلم لیگ ن نے اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: چشمہ نیوکلیئر اٹامک انرجی پاور پلانٹ بجلی پیدا
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔