سٹی 42 : آزاد جموں وکشمیر  کے سابق صدر  سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کا جنگی طرز عمل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، بھارت نے ابھی تک جنگی ماحول برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار سردار مسعود خان نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ سردار مسعود خان نے پاک بھارت تعلقات، مذاکرات کے امکانات اور بھارتی بیانیے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی روایتی جنگ، جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات محض اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے کوئی خوش فہمی رکھنا خطرناک ہوگا کیونکہ بھارتی وزِیراعظم نریندر مودی کھلے عام یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر حملہ کیا جائے گا۔

یوم تکبیر قوم کے اتحاد اور اپنی آزادی وخودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کے اعلان کا دِن ؛ وزیر اعظم

سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن ان کے ثبوت کبھی فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ بھارت نہ صرف اعلانیہ بلکہ خفیہ طور پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ددہشت گردی ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے، چاہے وہ براہ راست دوطرفہ بات چیت ہو یا کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے تحت۔ لیکن بھارت نے کبھی سنجیدگی سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا اور جب کبھی آمادگی کا اظہار کیا بھی تو اصل مسئلے سے انحراف کرتے ہوئے ثانوی امور کو بنیاد بنا کر بات چیت سے گریز کیا۔

یومِ تکبیر قوم کے عزم، اتحاد اور خودداری کی علامت ؛ مسلح افواج کا پیغام

پہلگام واقعے کے تناظر میں سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے بلا جواز پاکستان پر الزام تراشی کی، کشیدگی پیدا کی، اور پھر عسکری جارحیت کا ارتکاب کیا، جس پر پاکستان نے موثر اور فیصلہ کن جواب دے کر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس نے سیز فائر اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تاہم اب وہ پھر سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

73 سالہ معمر پاکستانی نے گینز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا

بھارتی قیادت کی جانب سے ''نیو نارمل'' کے تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر بھارت مستقبل میں ہر واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر حملے کو معمول بنا دے گا تو خطے میں امن قائم نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر اوردہشت گردی کو مذاکرات کا ایجنڈا بنانے کی بات کرتا ہے تو پاکستان بھی جموں و کشمیر کے مستقبل اور بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی میں مداخلت کو ایجنڈا کا حصہ بنائے گا۔

خیبرپختونخوا حکومت بجٹ 13 جون کو پیش کرے گی

سردار مسعود خان نے حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی عسکری برتری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے اور وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔امریکی ثالثی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کے بعد پاکستان کی موثر عسکری کارروائی نے بین الاقوامی برادری خصوصاً امریکہ کو متحرک کیا اور صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی پیش کش پاکستان کے لیے ایک موقع ہے مگر بھارت اس سے خائف دکھائی دیتا ہے اور مسلسل بہانے بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت پر کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

خطبہِ حج 5 مئی کو، عید الاضحیٰ 6 مئی کو ہو گی، سعودی حکومت نے اعلان کر دیا

سردار مسعود خان نے بھارت میں مذہبی تعصب اور مسلم مخالف پالیسیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر ریاستی سرپرستی میں تعصب اور امتیاز برتا جا رہا ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ بھارتی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کو محض اس بنیاد پر ''پاکستانی'' کہہ کر دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہی رویہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔

بھارتی سفارتی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ اور الزام تراشی پر مبنی سفارتی رویہ اب دنیا بھر میں تنقید کی زد میں ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اپنے روایتی دوستوں سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا اب بھارت کی اصل پالیسیوں کو سمجھنے لگی ہے اور پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی موقع ہے کہ وہ اپنے موقف کو موثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سردار مسعود خان نے کہا انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر کی جانب سے کرتے ہوئے بھارت کی کا اظہار کے لیے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا