جنوبی ایشیا میں کوئی بھی روایتی جنگ، جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے؛ سردار مسعود خان
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
سٹی 42 : آزاد جموں وکشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کا جنگی طرز عمل جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، بھارت نے ابھی تک جنگی ماحول برقرار رکھا ہوا ہے، جس کے پیش نظر پاکستان کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار سردار مسعود خان نے نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ سردار مسعود خان نے پاک بھارت تعلقات، مذاکرات کے امکانات اور بھارتی بیانیے پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی روایتی جنگ، جوہری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات محض اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے کوئی خوش فہمی رکھنا خطرناک ہوگا کیونکہ بھارتی وزِیراعظم نریندر مودی کھلے عام یہ اعلان کر چکے ہیں کہ بھارت یا مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی دہشت گرد کارروائی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جائے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر حملہ کیا جائے گا۔
یوم تکبیر قوم کے اتحاد اور اپنی آزادی وخودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کے اعلان کا دِن ؛ وزیر اعظم
سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مسلسل پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن ان کے ثبوت کبھی فراہم نہیں کیے گئے، جبکہ پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ بھارت نہ صرف اعلانیہ بلکہ خفیہ طور پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، خاص طور پر بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے ددہشت گردی ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے، چاہے وہ براہ راست دوطرفہ بات چیت ہو یا کسی تیسرے فریق کی ثالثی کے تحت۔ لیکن بھارت نے کبھی سنجیدگی سے مذاکرات کی پیش کش کو قبول نہیں کیا اور جب کبھی آمادگی کا اظہار کیا بھی تو اصل مسئلے سے انحراف کرتے ہوئے ثانوی امور کو بنیاد بنا کر بات چیت سے گریز کیا۔
یومِ تکبیر قوم کے عزم، اتحاد اور خودداری کی علامت ؛ مسلح افواج کا پیغام
پہلگام واقعے کے تناظر میں سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے بلا جواز پاکستان پر الزام تراشی کی، کشیدگی پیدا کی، اور پھر عسکری جارحیت کا ارتکاب کیا، جس پر پاکستان نے موثر اور فیصلہ کن جواب دے کر بھارتی عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس نے سیز فائر اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تاہم اب وہ پھر سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
73 سالہ معمر پاکستانی نے گینز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا
بھارتی قیادت کی جانب سے ''نیو نارمل'' کے تصور پر تبصرہ کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اگر بھارت مستقبل میں ہر واقعے کا الزام پاکستان پر لگا کر حملے کو معمول بنا دے گا تو خطے میں امن قائم نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر اوردہشت گردی کو مذاکرات کا ایجنڈا بنانے کی بات کرتا ہے تو پاکستان بھی جموں و کشمیر کے مستقبل اور بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی میں مداخلت کو ایجنڈا کا حصہ بنائے گا۔
خیبرپختونخوا حکومت بجٹ 13 جون کو پیش کرے گی
سردار مسعود خان نے حالیہ فوجی جھڑپوں میں بھارت کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی عسکری برتری کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ چکا ہے اور وہ اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔امریکی ثالثی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کے بعد پاکستان کی موثر عسکری کارروائی نے بین الاقوامی برادری خصوصاً امریکہ کو متحرک کیا اور صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ امریکہ کی جانب سے مذاکرات اور ثالثی کی پیش کش پاکستان کے لیے ایک موقع ہے مگر بھارت اس سے خائف دکھائی دیتا ہے اور مسلسل بہانے بنا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت پر کینیڈا، امریکہ اور پاکستان میں ایجنٹوں کے ذریعے قتل و غارت گری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں جو اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
خطبہِ حج 5 مئی کو، عید الاضحیٰ 6 مئی کو ہو گی، سعودی حکومت نے اعلان کر دیا
سردار مسعود خان نے بھارت میں مذہبی تعصب اور مسلم مخالف پالیسیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر ریاستی سرپرستی میں تعصب اور امتیاز برتا جا رہا ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ بھارتی مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی معاشرے میں مسلمانوں کو محض اس بنیاد پر ''پاکستانی'' کہہ کر دشمن قرار دیا جاتا ہے اور یہی رویہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ بھی اختیار کیا جا رہا ہے۔
بھارتی سفارتی کوششوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ اور الزام تراشی پر مبنی سفارتی رویہ اب دنیا بھر میں تنقید کی زد میں ہے اور اس کے نتیجے میں بھارت اپنے روایتی دوستوں سے بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا اب بھارت کی اصل پالیسیوں کو سمجھنے لگی ہے اور پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی موقع ہے کہ وہ اپنے موقف کو موثر انداز میں عالمی برادری کے سامنے پیش کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سردار مسعود خان نے کہا انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر کی جانب سے کرتے ہوئے بھارت کی کا اظہار کے لیے رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز