ملتان، جماعت اسلامی کے زیراہتمام یوم تکبیر یوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT
ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر صفدر ہاشمی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر محسن پاکستان ہیں جن کی سرپرستی میں سائنسدانوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنایا، اب ملک پاکستان کی طرف کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی یوم تکبیر یوم ڈاکٹر عبد القدیر خان منایا گیا، اس سلسلہ میں سابق امیر ضلع ڈاکٹر صفدر ہاشمی کی قیادت میں حسین آگاہی چوک پر انجمن تاجران حسین آگاہی کے زیراہتمام کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر صفدر ہاشمی نے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر محسن پاکستان ہیں جن کی سرپرستی میں سائنسدانوں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور ملکی دفاع ناقابل تسخیر بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب ملک پاکستان کی طرف کوئی دشمن میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ بھارت نے حملہ کیا پاک افواج نے پاکستان کے شاہینوں نے دشمن کے بزدلانہ حملہ کا جواب دشمن کو بتا کر اور دن کی روشنی میں دیا۔ پوری قوم اس موقع پر پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑی تھی۔ اللہ کی تائید و نصرت اور افواج پاکستان کی جرات سے ہی پاکستان کا دفاع ممکن ہوا۔ اس موقع پر ایٹمی دھماکوں کے 27 سال مکمل ہونے پر 27 پاونڈ کا کیک بھی کاٹا گیا۔ تقریب میں چیمبر آف سمال ٹریڈرز کی قیادت تاجر رہنما عزیز الرحمن انصاری، خواجہ فاروق، اکرم حکیم، شیخ ندیم اور دیگر بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر صفدر ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ مودی سرکار کسی غلط فہمی میں مت رہنا پاکستان کا بچہ بچہ شوق شہادت اور جذبہ جہاد سے سرشار ہے، بھارت کی ہر جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا اب بھی اگر کوئی جارحیت کی گئی تو بھارت کو منہ کی کھانا پڑے گی، پاکستانی افواج اور قوم ہر وقت تیار ہیں۔ ڈاکٹر صفدر ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے پاکستان کا بچہ بچہ جذبہ جہاد اور شوق شہادت رکھتا ہے بھارت نے رات کے اندھیرے میں بزدلانہ کاروائی کی پاک افواج نے بھرپور جواب دیکر بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اب مزاکرات کے نام پر بھارت کے آگے جھکنے کی بجائے کشمیر، سندھ طاس معاہدہ سمیت تمام حل طلب مسائل پر بات ہونی چاہیے، کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ انہوں نے فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم کو کھلی دہشت گردی قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈاکٹر صفدر ہاشمی پاکستان کا پاکستان کی کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔