Daily Ausaf:
2026-06-03@03:51:57 GMT

عزت دینے والی رب کی ذات ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, May 2025 GMT

جب دنیا امن، ترقی اور تعاون کی راہوں پر گامزن ہے، بھارت کی مودی سرکار تاحال نفرت، سازش اور پراپیگنڈے کی راہ پر چل رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم میں مسلسل ناکامی کے باوجود بھارت اپنی بدنیتی پر مبنی روش سے باز نہیں آتا۔ کبھی لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی، کبھی عالمی اداروں میں جھوٹے بیانیے، اور اب ایک بار پھر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) جیسے حساس عالمی فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ہر بار کی طرح، اس بار بھی مودی سرکار کی سازش بے نقاب ہو گئی اور پاکستان سرخرو ہو کر ایک بار پھر عالمی سچائی کا پرچم بلند کرنے میں کامیاب ہوا۔بھارت کی حکومتی مشینری برسوں سے اس بات پر کام کر رہی ہے کہ کسی طرح پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کیا جائے۔ مودی حکومت خاص طور پر اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان دشمنی کو سیاسی آلہ بنا چکی ہے۔پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں FATF کی ہدایات پر عملدرآمد کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں۔ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف قانونی و انتظامی اقدامات کیے گئے۔ بین الاقوامی برادری نے نہ صرف ان اقدامات کو تسلیم کیا بلکہ پاکستان کی سنجیدگی اور شفافیت کو سراہا۔ ایسے میں بھارت کی یہ کوشش کہ FATF کے پلیٹ فارم کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔مودی حکومت کا پراپیگنڈہ ایک بار پھر منہ کے بل زمین پر آ گرا، جب پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF)کی گرے لسٹ میں شامل کروانے کی سازش نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ دنیا نے بھارت کی بدنیتی اور منافقت کو پہچان کر اس کے عزائم کو رد کر دیا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی بھارت نے اپنی تمام توانائیاں، سفارتی وسائل اور میڈیا پروپیگنڈے کو بروئے کار لا کر دنیا کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ پاکستان نے مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف مثر اقدامات نہیں کیے، مگر سچ جھوٹ کا پردہ چاک کر دیتا ہے اور یہی سچ ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گیا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف عالمی اداروں کو استعمال کرنے کی کوشش کی ہو۔
ماضی گواہ ہے کہ مودی سرکار نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگا کر بین الاقوامی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ کبھی پلوامہ حملے کو بنیاد بنا کر، کبھی لائن آف کنٹرول پر فرضی کارروائیوں کا ڈھنڈورا پیٹ کر، اور اب FATF جیسے حساس فورم پر دبا ڈال کر۔ پاکستان کے اداروں نے دن رات محنت کی تاکہ دنیا کو یہ دکھایا جا سکے کہ ہم عالمی ذمہ داریوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ ان پر پورا اترنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ایسے میں بھارت کا یہ الزام کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے، نہ صرف حقائق سے متصادم ہے بلکہ خود بھارت کے چہرے پر پڑا نقاب بھی چاک کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت اپنے داخلی بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیہ گھڑتی ہے اور FATFکی حالیہ مہم اسی پالیسی کا تسلسل تھی۔بھارت کی معیشت گراوٹ کا شکار ہے، مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، کسان دہائی دے رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر بھارت کے اندر اقلیتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ عالمی برادری اب بھارت کی ان چالاکیوں کو بخوبی سمجھ چکی ہے۔ اب صرف الزامات اور پراپیگنڈے سے کسی ملک کو عالمی فورمز پر دبایا نہیں جا سکتا۔پاکستان نے نہایت بردباری، دلیل اور سفارتکاری کے ذریعے بھارت کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔ پاکستانی وفود نے مختلف ممالک سے رابطے کیے، حقائق اور اعداد و شمار فراہم کیے، FATF کی تکنیکی ٹیموں کو اطمینان دلایا اور عالمی میڈیا کو بتایا کہ بھارت کی کوشش دراصل ایک سیاسی چال ہے جس کا FATF کے اصل مشن سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جب FATF کا اجلاس منعقد ہوا تو سچ نے پھر فتح پائی۔
بھارت کی تمام کوششوں کے باوجود پاکستان نہ صرف گرے لسٹ سے محفوظ رہا بلکہ کئی ممالک نے پاکستان کے اقدامات کو سراہا۔ یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ پاکستان کے نظام، اس کے اداروں، اور اس کی قیادت کی ایک بڑی اخلاقی فتح ہے۔مودی حکومت کے لیے یہ ایک اور زخم ہے جو اس کی جھوٹی انا اور مصنوعی برتری کے غبارے سے ہوا نکال دیتا ہے۔ بھارت نے سوچا تھا کہ FATF کے ذریعے پاکستان پر دبا ئو ڈال کر اسے عالمی سطح پر شرمندہ کیا جا سکتا ہے لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ اب بھارت خود تنقید کی زد میں ہے اور FATF جیسے غیر جانبدار ادارے کے سیاسی استعمال کی کوشش پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ دنیا یہ پوچھ رہی ہے کہ کیا عالمی فورمز کو کسی ملک کے سیاسی ایجنڈے کا آلہ کار بنایا جا سکتا ہے؟ کیا ایک جمہوری اور خودمختار ریاست کے خلاف اس طرح کا میڈیا ٹرائل اور سفارتی دبائو قابل قبول ہے؟ ان سوالوں کا جواب عالمی ضمیر کو دینا ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ وہ ضمیر اب جاگ چکا ہے۔ بھارت جس تیزی سے سفارتی میدان میں اپنی اخلاقی برتری کھو رہا ہے وہ خود اس کے لئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ایک طرف بھارت میں اقلیتوں پر ظلم، مذہبی شدت پسندی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر پابندیاں عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں تو دوسری طرف وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانا چاہتا ہے۔
پاکستان دنیا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے، جبکہ بھارت دنیا کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنے پر بضد ہے، چاہے وہ زبردستی ہو یا جھوٹ کی بنیاد پر۔یہ حقیقت اب سب پر عیاں ہو چکی ہے کہ بھارت کا اصل مسئلہ پاکستان کی ترقی ہے۔ جب پاکستان سی پیک جیسے منصوبوں سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، جب پاکستان عالمی اداروں میں اپنی موجودگی مستحکم کرتا ہے، جب پاکستان دنیا کے ساتھ مل کر امن کی بات کرتا ہے، تو مودی سرکار کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ اسی لیے ہر کامیابی کے بعد ایک نئی سازش جنم لیتی ہے۔ کبھی دہشت گرد حملے کی جھوٹی کہانی، کبھی سرجیکل اسٹرائیک کا دعوی، کبھی FATF کا شور۔ مگر یہ سب کچھ اب پرانے ہتھکنڈے بن چکے ہیں، جنہیں دنیا اب سنجیدگی سے نہیں لیتی۔مودی حکومت شاید یہ بھول گئی کہ دنیا اب صرف الزامات پر یقین نہیں کرتی۔ آج کے دور میں ڈیٹا، شواہد، شفافیت اور پرفارمنس بولتی ہے اور یہی وہ محاذ ہے جہاں پاکستان جیت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے پاکستان کے بیانیے کو اپنایا اور بھارت کے شور شرابے کو مسترد کر دیا۔پاکستان کے لیے یہ وقت خوشی اور اطمینان کا ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ وقت مزید ذمہ داری، سنجیدگی اور تسلسل کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔ اس کی پروپیگنڈا مشینری، جعلی خبریں پھیلانے والے نیٹ ورکس اور سفارتی محاذ پر پاکستان کو نقصان پہنچانے والے عناصر اب بھی سرگرم ہیں۔ لہذا پاکستان کو اپنی سفارتی مشینری کو مزید فعال، تحقیقی اور ذمہ دار بنانا ہو گا۔ ہمیں دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا مقف بھرپور اور سچائی کے ساتھ پیش کرنا ہوگا تاکہ آئندہ بھی کسی دشمن ملک کو ہماری طرف منہ کرنے کا موقع نہ ملے۔پاکستان نے نہ صرف مودی حکومت کے پراپیگنڈے کو شکست دی بلکہ ایک نئی تاریخ رقم کی: سچائی، شفافیت اور تدبر کے ہتھیاروں سے جھوٹ، دھونس اور دھوکہ بازی کو زیر کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: پاکستان کے خلاف ایک بار پھر مودی سرکار جب پاکستان مودی حکومت پاکستان کو کہ پاکستان پاکستان نے کہ بھارت بھارت کی کوشش کی کرتا ہے دنیا کے کی کوشش کے ساتھ ہے اور رہی ہے کے لیے

پڑھیں:

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟

گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ

بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟

بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔

ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔

نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔

بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔

چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔

حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔

تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔

کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟

پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔

2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔

بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔

مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان

دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا