لاہور:

قومی فاسٹ بالر حسن علی نے کہا بنگلا دیش کے خلاف میچ میں 6 سال بعد ہمارا روٹی گینگ دوبارہ اکٹھا ہوا جس پر بے حد خوشی ہوئی۔

لاہور میں قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر حسن علی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے حالیہ سفر، ٹیم میں واپسی اور مستقبل کے عزائم پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

 انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ ان کے لیے خاصے مشکل رہے، لیکن پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے شاندار کارکردگی دکھا کر انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔

حسن علی نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ قومی کرکٹ اکیڈمی (NCA) میں کی جانے والی محنت اور ٹریننگ کو دیا۔

مزید پڑھیں: حسن علی 5 وکٹیں لینے والے چوتھے پاکستانی بولر بن گئے

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے بڑے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بھی اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں، لیکن اگر آپ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور مسلسل محنت کرتے رہیں تو آپ کی کارکردگی بہتر رہتی ہے۔

انہوں نے اپنے پرانے ساتھیوں شاداب خان، فہیم اشرف اور فخر زمان کے ساتھ دوبارہ کھیلنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چھ سال بعد روٹی گینگ دوبارہ اکٹھے کھیل رہا ہے، ہم ایک دوسرے کو بہت مس کرتے تھے۔

ٹی20 ورلڈ کپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے حسن علی نے کہا کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق ضرور دستیاب ہوں گے، اور ان کی کوشش ہو گی کہ اپنی پرفارمنس سے ٹیم کو فائدہ پہنچائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ میں صرف ایک فارمیٹ تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹس میں کھیلنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں: کرکٹر کی والدہ کو ڈاکو لوٹ کر فرار، لاکھوں کی مالیت کا پرس چھین لیا گیا

نئے بولنگ کوچ ایشلی کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھ اچھا وقت گزر رہا ہے اور دونوں کے درمیان گپ شپ بھی ہوتی رہتی ہے، جس سے سیکھنے کا عمل جاری ہے۔

اپنے مداحوں کے لیے حسن علی کا کہنا تھا کہ فینز میری فیملی کا حصہ ہیں، ان کی سپورٹ میرے لیے باعثِ حوصلہ ہے۔ جب شائقین مجھے 'جنریٹر' کہتے ہیں تو میں خوش ہو جاتا ہوں۔

انہوں نے اپنی موجودہ شاندار پرفارمنس اپنی اہلیہ، بچوں اور اپنے نام کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ان کے لیے خاص ہے۔

 حسن علی نے مزید کہا کہ اگر ہمیں میگا ایونٹس جیتنے ہیں تو ہمیں جدید طرز کی کرکٹ کھیلنی ہو گی، بالکل ویسی جیسی دنیا کی دیگر بڑی ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: حسن علی نے کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں