جعلی دستاویز پر اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے ایک ہی خاندان کے7مسافر زیرحراست، ایجنٹ بھی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
ایف آئی اے امیگریشن نے نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرجعلی ریزیڈنٹ کارڈ پر اٹلی جانے کی کوشش کرنے والے 7 مسافروں کو آف لوڈ کرکے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ایئرپورٹ کے احاطے سے ہی ایجنٹ کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے حکام نے کہا کہ نیو اسلام آباد ائیرپورٹ پر آذربائیجان جانے والی پرواز نمبر J2144 کی بریفنگ جاری تھی کہ خیبرپختونخوا اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 6 مسافر اپنے سہولت کار محمد ہارون کے ہمراہ کلیئرنس کے لیے ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچنے۔
کاؤنٹر پر تعینات عملے نے ان کی سفری دستاویزات کو مشکوک جان کر تفصیل سے چیک کیا تو سفری دستاویزات جعلی پائی گیں جس پر محمد ہارون سمیت تمام مسافروں جن میں محمد شیر، سلمان خان، محمد حارث خان، ولی اللہ، احتشام شرافت اور ثمین اللہ شامل ہیں کو آف لوڈ کرلیاگیا۔
حکام کے مطابق ابتداہی پوچھ گچھ کے دوران بھی مسافر باکو کی جانب سفر کرنے کے متعلق کچھ بتانے سے قاصر رہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ تمام مسافر آپس میں رشتہ دار ہیں اور انھیں جعلی ریذیڈنٹ کارڈ بناکر دینے میں شاکر اللّہ ایجنٹ ملوث ہے جو خود بھی ائیرپورٹ کے احاطے میں موجود ہے جس پر ایف آئی اے ٹیم نے کنکورس ہال میں چھاپہ مارکر ایجنٹ شاکر اللّہ کوبھی گرفتار کرلیا۔
رپورٹ کے مطابق تلاشی کے دوران مسافروں کے قبضے سے اٹلی کے جعلی ریزیڈنٹ کارڈز اور ترکیہ کے جعلی ویزے بھی برآمد ہوئے۔
محمد ہارون نامی سہولتکار نے آذربائیجان اور ترکہ کے لیے ویزوں کا بندوبست کیا مسافروں نے آذربائیجان سے مذکورہ دستاویزات کی بنیاد پر یورپ جانے کی کوشش کرنا تھی جن کو کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد منتقل کر دیا گیا جہاں مزید تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایف آئی اے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں