اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو حکومت کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا؟ ۔

شرمیلا فاروقی نے ڈیجیٹل کرنسی کی ریگولیشنز سے متعلق بل پیش کر دیا، انہوں نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کی کوئی ریگولیشنز موجود نہیں، پاکستان ڈیجیٹل کرنسی کی طرف آگے بڑھ رہا ہے، کرپٹو کرنسی ڈی سینٹرالائزڈ ہوتی ہے، پاکستان حال ہی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نکلا ہے۔

شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کرپٹو کرنسی کو منی لانڈرنگ سے کیسے بچائے گا؟

سیکریٹری خزانہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کرپٹو کونسل میں ابتدائی کام ہو رہا ہے، کرپٹو کرنسی کے لیے باقاعدہ ریگولیشنز کی ضرورت ہے، پاکستان میں کرپٹو کرنسی پر پابندی ہے، اسٹیٹ بینک نے کرپٹو کوائنز میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حکام نے اجلاس کے شرکا کو آگاہ کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق نیشنل ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، کرپٹو کونسل کو تجاویز دی گئی ہیں، کرپٹو کرنسی کے لیے لیگل فریم ورک درکار ہوگا۔

اسٹیٹ بینک کے افسران نے کہا کہ پوری دنیا میں صرف سیلواڈور نےکرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دیا ہے، اور وہ بھی اب اس فیصلے کو واپس لے رہا ہے۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 10 جون 2025 کو ہی پیش کیا جائے گا۔
سیکریٹری خزانہ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو ہی پیش ہوگا، بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی کرپٹو کرنسی پر پابندی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے