جرمنی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں یوکرین کی مدد کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 مئی 2025ء) جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بدھ 28 مئی کو برلن میں یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی میزبانی کے موقع پر اعلان کیا کہ جرمنی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری میں یوکرین کی مدد کرے گا۔
یوکرین اب اسلحہ درآمد کرنے والے ملکوں میں سرفہرست
’جرمن ہتھیاروں سے روسی سرزمین پر حملے ممکن‘
میرس نے جرمن ساختہ ٹاؤرس کروز میزائل یوکرین بھیجنے کے امکانات پر بھی کھل کر انکار نہ کیا، جو صدر زیلنسکی کی ایک اہم درخواست ہے۔
جرمن نشریاتی ادارے زیڈ ڈی ایف سے بات کرتے ہوئے چانسلر میرس کا کہنا تھا، ''یقیناﹰ، یہ امکان کے دائرے میں ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تربیتی ضروریات کی وجہ سے ان میزائلوں کے میدان جنگ پر فوری اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔(جاری ہے)
جرمن دارالحکومت برلن میں صدر زیلنسکی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میرس نے کہا، ''ہم (یوکرین کو) طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری کے قابل بنانا چاہتے ہیں۔
ہم مشترکہ پیداوار کو بھی ممکن بنانا چاہتے ہیں۔‘‘جرمن چانسلر کے مطابق یہ اقدام جرمنی اور یوکرین کے درمیان ''فوجی صنعتی تعاون کی ایک نئی شکل کے آغاز‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں ''بہت زیادہ امکانات ہیں۔‘‘
جرمنی کی طرف سے یوکرین کو ٹاؤرس میزائل فراہم کیے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میزائلوں کے استعمال کے لیے یوکرینی فوجیوں کو کئی ماہ کی تربیت کی ضرورت ہو گی اور اگر یہ نظام چھ ماہ یا ایک سال میں فراہم کیا جاتا ہے، تو اس سے یوکرین کو اب کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جرمنی اب یوکرین کے ساتھ اپنے فوجی تعاون اور حمایت کو بہتر بنا رہا ہے۔میرس نے رواں ہفتے کے آغاز پر پیش کیے گئے اپنے نقطہ نظر کو دہرایا کہ یوکرین پر عائد یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے کہ وہ جرمن ہتھیار کہاں کہاں استعمال کر سکتا ہے۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے یوکرین کی جانب سے ٹاؤرس میزائلوں کی ضرورت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا، ''یقیناﹰ ہمیں ان کی ضرورت ہے۔
‘‘ وزرائے دفاع نے پیداوار کے معاہدے پر دستخط کر دیےبرلن میں پریس کانفرنس کے بعد جرمن وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس اور ان کے یوکرینی ہم منصب رستم عمروف نے یوکرین میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مالی اعانت کے ایک اعلامیے پر دستخط کر دیے ہیں۔
جرمن وزارت دفاع کے مطابق پانچ بلین یورو کے اس پیکج کا مقصد یوکرین کو ''اس سال طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی کافی تعداد‘‘ کی تیاری کے قابل بنانا ہے۔
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے جرمنی پر جنگ کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ''یوکرین کے لوگوں کو لڑائی جاری رکھنے پر مجبور کرنے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔‘‘
پیسکوف کے مطابق برلن تنازعے کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
جرمن وزیر خارجہ نے روسی الزامات مسترد کر دیےادھر واشنگٹن پہنچے ہوئے جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈےفیہول نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنے کے پر آمادہ نہیں ہیں۔
امریکی ٹی وی فاکس نیوز کو ایک انٹریو دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ''روس نے یہ جنگ شروع کی۔ روس یہ تنازعہ جاری رکھے ہوئے ہے، اور اسے ختم نہیں کر رہا۔‘‘
انہوں نے روس کی طرف سے جرمنی کے خلاف جنگی جنون پھیلانے کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جرمنی نہیں بلکہ روس غیر قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔
ادارت: مقبول ملک
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوکرین کے کرتے ہوئے یوکرین کو انہوں نے کی تیاری کہ جرمن
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔