سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کریپٹو کونسل تشکیل دی ہے اور معاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے، تمام معاملات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور فریم ورک پالیسی کے لیے قانونی امور پر کام کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرپرسن نفیسہ شاہ کی صدارت میں ہوا، جس میں ملک میں کریپٹو کرنسی اور حالیہ تشکیل دی گئی کریپٹو کونسل کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں کمیٹی نے ان امور پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خزانہ اور معاون خصوصی سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔ 

سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے کریپٹو کونسل تشکیل دی ہے اور بلال بن ثاقب کو معاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کریپٹو کرنسی سے متعلق تمام معاملات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور فریم ورک پالیسی کے لیے قانونی امور پر کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کریپٹو ڈیجیٹل کرنسی کو ریگولیٹ کرنے کے امور زیر غور ہیں، جبکہ مرکزی بینک اور ایس ای سی پی ان امور پر غور کر رہے ہیں۔

تاہم اسٹیٹ بینک حکام نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل کرنسی کو ابھی تک کہیں بھی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہوئی اور اسٹیٹ بینک کی طرف سے کریپٹو پر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس موقع پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ کریپٹو کرنسی کے بارے میں تمام باتیں ابھی میڈیا میں ہی چل رہی ہیں، جب کہ کریپٹو کونسل کے قیام کے بعد اضافی 2000 میگاواٹ بجلی بھی مختص کر دی گئی ہے۔

اراکین نے کریپٹو کرنسی سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس حوالے سے امور کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور بغیر منصوبہ بندی کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جس سے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ کریپٹو کرنسی میں لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس سے اربوں روپے نقصان کا اندیشہ موجود ہے۔ بلال بن ثاقب کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے ایک رکن نے پوچھا کہ وہ بڑے اہم لوگوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، آخر کونسل کرے گی کیا؟

اجلاس میں کمیٹی نے کریپٹو کرنسی کے لیے 2000 میگاواٹ بجلی مختص کرنے پر پاور ڈویژن سے بھی بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا اور ہدایت دی کہ سیکرٹری پاور آئندہ اجلاس میں اس بارے میں وضاحت دیں۔ رکن کمیٹی شاہدہ بیگم نے کہا کہ نوجوان کرپٹو کے لیے انسٹرومنٹس خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ اسامہ احمد نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومت خود کرپٹو کی مائننگ کرنا چاہتی ہے یا یہ نجی شعبہ کرے گا؟

انہوں نے کہا کہ پہلے حوالہ ہنڈی ہوتی تھی، اب کرپٹو کے ذریعے پیسہ باہر جا رہا ہے۔ اختیار بیگ نے کہا کہ کرپٹو کو دو ہزار میگاواٹ بجلی دینے کی بجائے انڈسٹری کو کیوں نہیں دی جا رہی؟ کمیٹی چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ پارلیمنٹ اور اسٹیٹ بینک کے بغیر کریپٹو کونسل کیسے قائم ہو گئی؟ اس پر سیکرٹری خزانہ نے جواب دیا کہ وزیر اعظم نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے کریپٹو کونسل قائم کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اجلاس میں جا رہا ہے نے کہا کہ رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن