آج کے گوشت اور انڈوں کے ریٹس کیا ہیں ؟ جانئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
لاہور: مقامی مارکیٹوں میں آج جمعرات، 29 مئی 2025 کو گوشت اور انڈوں کی قیمتوں میں معمولی رد و بدل دیکھا گیا ہے۔ شہریوں کو بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کی شکایات ہیں، خاص طور پر گوشت اور انڈے جیسے روزمرہ استعمال کی اشیاء کے نرخوں میں اضافہ ان کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق:
| بکرا / مٹن | گوشت | فی کلو | 2,400 روپے |
| گائے / بیف | گوشت | فی کلو | 1,000 روپے |
| مرغی برائلر | زندہ | فی کلو | 398 روپے |
| مرغی برائلر | گوشت | فی کلو | 490 روپے |
| انڈے | فارمی | فی درجن | 304 روپے |
گوشت فروشوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور چارے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ریٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری اقدامات کرتے ہوئے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں کو قابو میں لائے تاکہ عام آدمی کی زندگی آسان ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔