پونچھ کے متاثرین کیلئے راحت اور بازآبادکاری پیکیج دیا جائے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے حال ہی میں پونچھ کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی گولی باری میں چار بچوں سمیت 14 لوگوں کی افسوسناک موت ہوگئی اور درجنوں لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کمیٹی کے سینیئر لیڈر راہل گاندھی نے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کو خط لکھ کر جنگ سے متاثرہ جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع کے شہریوں کے لئے فوری راحت اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ راہل گاندھی نے حال ہی میں پونچھ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے متاثرین سے ملاقات کرکے ان کے حالات کا جائزہ لیا تھا۔ انہوں نے نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ پونچھ دورہ کے دوران انہوں نے متاثرین کی خستہ حالی دیکھی اور حکومت سے متاثرہ علاقوں کے لئے بڑے پیمانے پر منصوبہ بنانے کی گزارش کی۔
نریندر مودی کو لکھے گئے خط میں راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے حال ہی میں پونچھ کا دورہ کیا، جہاں پاکستانی گولی باری میں چار بچوں سمیت 14 لوگوں کی افسوسناک موت ہوگئی اور درجنوں لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ اس اندھا دھند حملے نے عام شہری علاقوں میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ سینکڑوں گھر، دوکانیں، اسکول اور مذہبی مقامات پوری طرح یا جزوی طور پر تباہ ہوچکے ہیں اور بہت سے خاندان نے اپنی برسوں کی محنت اور زندگی بھر کی پونجی ایک ہی جھٹکے میں کھودی ہے۔
کانگریس کے سابق صدر نے اپنے خط میں مزید کہا کہ پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں کے لوگ دہائیوں سے امن اور بھائی چاہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ آج جب وہ اس گہرے بحران سے گزر رہے ہیں، تو ہمارا انسانی اور قومی فریضہ ہے کہ ہم ان کے غم کو سمجھیں اور ان کی زندگی کو پھر سے سنوارنے کے لئے ہر ممکن امداد دیں۔ کانگریس لیڈر نے حکومت سے گزارش کی کہ پونچھ اور دیگر سرحدی علاقوں کے لئے جو پاکستان کی طرف سے کی گئی گولی باری سے متاثر ہوئے ہیں، ایک جامع اور موثر ریلیف اور بحالی کا منصوبہ تیار کیا جائے۔
انہوں نے ایک جذباتی ویڈیو پیغام بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس میں پونچھ دورے کے دوران وہاں کے متاثرہ لوگوں سے ان کی بات چیت دکھائی گئی۔ انہوں نے لکھا کہ پونچھ کا درد وہاں جاکر ہی محسوس ہوتا ہے۔ ٹوٹے آشیانے، بکھری زندگیاں اس درد کی گونج سے ایک ہی آواز آتی ہے، ہم ہندوستانی ایک ہیں۔ یہ مدد نہیں، فرض ہے۔ انہوں نے لکھا کہ گزارش نہیں بلکہ حکومت کی یاد دلا رہا ہوں۔ پاکستان کی گولہ باری سے متاثرہ پونچھ اور دیگر علاقوں کے لئے ایک ٹھوس، فراخ دل اور فوری ریلیف اور بازآبادکاری کا پیکج تیار کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی نے علاقوں کے میں پونچھ انہوں نے پونچھ کا لکھا کہ کے لئے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔