جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان کی حاضری، مزید تین شہادتیں ریکارڈ ہو گئیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
سٹی42: اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران مزید 3 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی گئیں، دوران سماعت عمران خان اور دیگر ملزم بھی کمرہ عدالت میں حاضر تھے۔
روالپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی۔
آج جمعرات کے روز کی سماعت میں 3 گواہ کانسٹیبل ظفر قیوم، محرر تھانہ آر اے بازار محمد منشی اور محرر عمران اپنی گواہیاں دینے کے لئے پیش ہوئے۔ عدالت نے ملزموں کی موجودگی مین تینوں گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کر لیں۔
غزہ میں امداد کی چھینا جھپٹی میں چار افراد جاں بحق ہوئے، افسوسناک صورتحال پر اپ ڈیٹ
مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر محمد ریاض کی بھی شہادت ریکارڈ کی گئی تاہم یہ شہادت مکمل نہیں ہوئی۔
جی ایچ کیو راولپنڈی پر پی ٹی آئی کے شر پسندوں نے 9 مئی 2023 کو جو حلہ کیا تھا اس کے مقدمہ میں اب تک 31 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔
سماعت کے دوران "مال مقدمہ" بھی عدالت پیش کیا گیا۔
آئندہ سماعت پر مزید گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی جائیں گی، جن کے لیے گواہوں کو نوٹس کئے جاچکے ہیں۔
کرکٹر حسن علی کی والدہ سے پرس چھیننے والا پکڑا گیا
آج کی سماعت کے دوران ملزم عمران خان، عثمان ڈار،صداقت عباسی سمیت متعدد ملزمان کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
پس منظر
9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک بھر میں فوجی تنصیبات، دفاتر، قومی یافگاروں پر منظم حملے کئے گئے تھے، راولپنڈی میں کئی فوجی مقامات کے ساتھ مسلح افواج کے جنرل ہیڈکوارٹرز پر بھی شر پسندوں نے منظم حملہ کیا تھا جس سے عمارت کے گیٹ کو نقصان پہنچا، شر پسند اس قابلِ احترام ہیڈ کوارٹرز کے اندر گھس گئے اور پاکستان سے باہر بھی اس حملے کو پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کی تضحیک اور مورال گرانے جیسے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا۔
کشمیر کا سودا ممکن نہیں، ریاست مخالف بیانیہ کی نفی کیجئے
اس دوران فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
ان شر پسندوں نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جو تاریخی میوزیم جناح ہاؤس کے ایک پورشن میں ہے۔
ان منظم حملوں کے جواب مین مسلح افواج اور پولیس نے بہت زیادہ تحمل اور برداشت کے ساتھ صورتحال کو ہینڈل کیا تھا۔ اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف لوگوں کو حملوں کا حکم دینے، حملوں پر اکسانے کے مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔
نوابشاہ؛ مسافر کوچ اُلٹ گئی، 15 مسافر زخمی
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: شہادتیں ریکارڈ کی شہادتیں جی ایچ کیو کیا تھا
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان