گلگت بلتستان کے سینیئر قانون دان غلام محمد ایڈووکیٹ کا خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 29th, May 2025 GMT
اسلام ٹائمز کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں ماہر قانون غلام محمد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ لینڈ ریفارمز ایکٹ بذات خود ٹھیک ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ زمینوں کے مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش ہوئی ہے، تاہم اس میں کئی خامیاں ہیں، جس سے عوام براہ راست متاثر ہونگے۔ متعلقہ فائیلیںغلام محمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان کے سینیئر قانون دان ہیں، تعلق ضلع استور سے ہے۔ گلگت بلتستان کے اہم عوامی اور قانونی مسائل پر وہ ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہتے ہیں۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمینوں کی اصلاحات کا قانون اسمبلی سے منظور ہوا۔ جس کے بارے میں صوبائی حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایکٹ کے ذریعے حکومت نے عوام کا چالیس سالہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا۔ تاہم اپوزیشن اور کچھ دیگر حلقوں کا موقف ہے کہ اس ایکٹ نے زمینوں کے مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے، کیونکہ گلگت بلتستان میں ہزاروں کنال اراضی حکومت کے نام پر الاٹ ہے، لیکن عوام اس الاٹمنٹ کو نہیں مانتے۔ اس مسئلے کو ایکٹ کے ذریعے حل ہونا چاہیئے تھا۔ اسی معاملے پر اسلام ٹائمز نے ماہر قانون غلام محمد ایڈووکیٹ عرف جی ایم ایڈووکیٹ سے تفصیلی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔