اسلام آباد:

واٹر ایکسپرٹ ارشد ایچ عباسی کا کہنا ہے کہ آپ نے جو پہلے پری ایمبل کہا کہ پانی کا کیا اثرہوگا اگرانڈیا نے بند کیا کیونکہ تین دن پہلے بھی ان کے منسٹر جے شکتی نے کہا کہ ہم پاکستان میں پانی کا ایک قطرہ داخل نہیں ہونے دیں گے. 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا 40 ،50 پرسنٹ پانی انڈیا سے آتا ہے، سب سے پہلا جو ہمیں نقصان ہوگا کہ ہماری جو سستی بجلی بن رہی ہے تربیلا، منگلا، غازی بروتھا اور چشمہ یہ کہاں چلی جائے گی پھر ہم آئی پی پی پہ آ جائیں گے ایک تو نقصان یہ ہوا.

سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا یہ 1960میں معاہدہ ہوا اور آج 2025 ہے، اس سے قبل انڈیا کی پارلیمانی زندگی میں چھ، سات یا آٹھ پرائم منسٹر گزر چکے ہیں لیکن کسی پرائم منسٹر نے یہ اسٹیٹمنٹ نہیں دی تھی کہ ہم پانی بند کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی کیبنٹ میں کئی بار یہ ڈسکشن چلتی رہی ہے کہ ہم پانی کو بند کر دیں یا اس پر ہم ایسے پراجیکٹس بنائیں جس سے ٹریٹی وائیولیٹو ہو لیکن الٹیمیٹلی ان کا فیصلہ یہ ہوا کہ انٹرنیشنل ٹریٹی ہے اس کو ہم ہاتھ نہیں لگا سکتے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہندوتوا کی ذہنیت ہے کہ مودی نے پہلی بار پانی بند کرنے کی دھمکی لگائی.

واٹر اینڈ کلائمٹ ایکسپرٹ وقاص شیرازی نے کہا کہ کلائمٹ چینج صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری دنیا کو متاثر کررہا ہے، انسانی سرگرمیوں کے باعث گرین ہاؤس گیس امیشن کو بڑھایا جس کی وجہ سے دنیا کا اوسط درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اس کی وجہ سے تازہ پانی کے ذخائر دنیا میں برف کی صورت میں تھے وہ سکڑ گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بارشوں کے پیٹرن میں بہت تبدیلی آئی ہے، دنیا بھر میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی دیکھی گئی ہے اور دوسری طرف انسانی آبادی بڑھ گئی ہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جو سب سے زیادہ تعداد میں گلیشیئرز رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے مرکزی دریاؤں میں پانی کابہاؤ خاصی حد تک کم ہوا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا