کلائمیٹ چینج تو پوری دنیا کو متاثر کررہا ہے، وقاص شیرازی
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
واٹر ایکسپرٹ ارشد ایچ عباسی کا کہنا ہے کہ آپ نے جو پہلے پری ایمبل کہا کہ پانی کا کیا اثرہوگا اگرانڈیا نے بند کیا کیونکہ تین دن پہلے بھی ان کے منسٹر جے شکتی نے کہا کہ ہم پاکستان میں پانی کا ایک قطرہ داخل نہیں ہونے دیں گے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارا 40 ،50 پرسنٹ پانی انڈیا سے آتا ہے، سب سے پہلا جو ہمیں نقصان ہوگا کہ ہماری جو سستی بجلی بن رہی ہے تربیلا، منگلا، غازی بروتھا اور چشمہ یہ کہاں چلی جائے گی پھر ہم آئی پی پی پہ آ جائیں گے ایک تو نقصان یہ ہوا.
سابق انڈس واٹر کمشنر جماعت علی شاہ نے کہا یہ 1960میں معاہدہ ہوا اور آج 2025 ہے، اس سے قبل انڈیا کی پارلیمانی زندگی میں چھ، سات یا آٹھ پرائم منسٹر گزر چکے ہیں لیکن کسی پرائم منسٹر نے یہ اسٹیٹمنٹ نہیں دی تھی کہ ہم پانی بند کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان کی کیبنٹ میں کئی بار یہ ڈسکشن چلتی رہی ہے کہ ہم پانی کو بند کر دیں یا اس پر ہم ایسے پراجیکٹس بنائیں جس سے ٹریٹی وائیولیٹو ہو لیکن الٹیمیٹلی ان کا فیصلہ یہ ہوا کہ انٹرنیشنل ٹریٹی ہے اس کو ہم ہاتھ نہیں لگا سکتے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ہندوتوا کی ذہنیت ہے کہ مودی نے پہلی بار پانی بند کرنے کی دھمکی لگائی.
واٹر اینڈ کلائمٹ ایکسپرٹ وقاص شیرازی نے کہا کہ کلائمٹ چینج صرف پاکستان کو ہی نہیں پوری دنیا کو متاثر کررہا ہے، انسانی سرگرمیوں کے باعث گرین ہاؤس گیس امیشن کو بڑھایا جس کی وجہ سے دنیا کا اوسط درجہ حرارت بڑھ گیا ہے اس کی وجہ سے تازہ پانی کے ذخائر دنیا میں برف کی صورت میں تھے وہ سکڑ گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بارشوں کے پیٹرن میں بہت تبدیلی آئی ہے، دنیا بھر میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی دیکھی گئی ہے اور دوسری طرف انسانی آبادی بڑھ گئی ہے، پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جو سب سے زیادہ تعداد میں گلیشیئرز رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمارے مرکزی دریاؤں میں پانی کابہاؤ خاصی حد تک کم ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔