قیصر کھوکھر :  پنجاب پبلک سروس کمیشن نے محکمہ پولیس کے مختلف ریجنز میں سب انسپکٹر اور اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی اسامیوں کے تحریری نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ سیکرٹری پنجاب پبلک سروس کمیشن افضال احمد نے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

پی پی ایس سی نے پنجاب پولیس سروس کوٹہ کی مختلف آسامیوں کے تحرریری نتائج کا اعلان _کر_ دیا ہے ترجمان پنجاب پبلک سروس کمیشن ڈپٹی ڈائریکٹر سید کاظم مقدس کے مطابق: پنجاب پولیس، شیخوپورہ ریجن (سروس کوٹہ) میں سب انسپکٹر کی 41 اسامیوں کے لیے 45 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب قرار پائے ہیں
پنجاب پولیس ہی، لاہور ریجن (سروس کوٹہ) میں سب انسپکٹر کی 54 اسامیوں کے لیے 76 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔
پنجاب پولیس، لاہور ریجن (سروس کوٹہ) میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی 299 اسامیوں کے لیے 484 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں.


پنجاب پولیس، فیصل آباد ریجن (سروس کوٹہ) میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی 75 اسامیوں کے لیے 333 امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں.
پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ویب سائٹ پر کامیاب امیدواروں کی مکمل فہرستیں دستیاب ہیں۔ تمام امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انٹرویو کے وقت اصل تعلیمی اسناد، قومی شناختی کارڈ اور متعلقہ کاغذات ہمراہ لائیں۔سیکرٹری پنجاب پبلک سروس کمیشن افضال احمد نے کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

غزہ میں امداد کی چھینا جھپٹی میں چار افراد جاں بحق ہوئے، افسوسناک صورتحال پر اپ ڈیٹ

Ansa Awais Content Writer

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: لاہور لاہور امیدوار تحریری امتحان میں کامیاب پنجاب پبلک سروس کمیشن اسامیوں کے لیے سب انسپکٹر کی پنجاب پولیس سروس کوٹہ دیا ہے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن