شدید گرمی میں حاجیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے سعودی حکومت کے خصوصی انتظامات
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
مکہ مکرمہ : حج 2025 کا سیزن شروع ہو چکا ہے اور اس بار سعودی حکام نے شدید گرمی سے حجاج کرام کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔
سعودی وزیرِ حج توفیق الربیعہ نے بتایا کہ اس بار درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر سکتا ہے، اس لیے حکومت نے اسے اولین چیلنج کے طور پر لیا ہے۔
وزیرِ حج کے مطابق 40 سے زائد سرکاری ادارے اور 2.
مزید برآں ڈرونز اور جدید AI ٹیکنالوجی کے ذریعے مکہ مکرمہ کی نگرانی کی جائے گی اور بغیر اجازت حج کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری ہے۔
توفیق الربیعہ کا کہنا تھا کہ 2024 میں 1300 سے زائد حجاج کا انتقال ہوا تھا جن میں سے 80 فیصد وہ تھے جو بغیر اجازت حج پر آئے تھے اور سہولیات سے محروم رہے۔
انہوں نے کہا: ’’حج ایک مقدس فریضہ ہے، اس کی حفاظت اور انتظامات ہماری قومی ذمے داری ہے۔ ہم تمام حجاج سے گزارش کرتے ہیں کہ اجازت نامے کے بغیر نہ آئیں۔‘‘
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔