اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 مئی2025ء) صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز عاطف اکرام شیخ نے سی ڈی اے بورڈ کے اہم فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ٹریڈ تبدیلی فیسوں میں کمی،انڈسٹریل پلاٹس کے ریٹس کے جائزے جیسے اقدامات احسن اقدام ہے،فارم ہائوسز سے انڈسٹریل کی جگہ رہائشی چارجز وصول کرنے کا فیصلہ بھی درست سمت میں قدم کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم کے خصوصی مشیر ہارون اختر کے ایف پی سی سی آئی دورہ پر اس اہم مسئلے کی طرف توجہ مبذول کروائی تھی، ہماری تجاویز پر صنعتی پلاٹوں پر عائد غیر حقیقی نرخوں پر نظر ثانی اور انہیں ایڈجسٹ کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے جو کہ بزنس کمیونٹی کی بڑی کامیابی ہے ،جس کا تجارتی اور صنعتی سٹیک ہولڈرز کو طویل عرصے سے انتظار تھا۔

(جاری ہے)

معاون خصوصی ہارون اختر نے نہ صرف بزنس کمیونٹی کی آواز کو سنا بلکہ عمل بھی کروایا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ٹریڈ سے متعلق فیسوں میں کمی سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔کم اخراجات کے باعث ان کے لیے نئے کاروبار شروع کرنا یا موجودہ کاروبار میں توسیع کرنا آسان ہو جائے گا، جب کاروباری اخراجات کم ہوتے ہیں تو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ملک میں سرمایہ کاری کرنا زیادہ پرکشش ہو جاتا ہے،یہ ملکی معیشت کی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کر سکتا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم