چنگان السوین کی خریداری پر بڑی رعایت، 2 سال کی مفت سروس کی بھی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
چنگان پاکستان اپنی السوین سیڈان پر ایک محدود مدت کے پروموشنل ڈیل کی پیشکش کر رہا ہے جس سے خریدار 2 لاکھ 75 ہزار روپے تک کی بچت کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چنگان السوین کا نیا بلیک ایڈیشن پاکستان میں چھا گیا
اس آفر میں تمام ویریئنٹس پر 150،000 انوائس ڈسکاؤنٹ اور 125،000 روپے تک کا 2 سالہ مفت پیریڈک مینٹیننس پیکیج بھی شامل ہے۔
قیمتیں اور مراعاتچنگان السوین کی قیمت 39 لاکھ 49 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔ رعایت کا اطلاق براہ راست قیمت میں کمی کے ساتھ ساتھ 2 برسوں کے دوران مفت گاڑی کی سروسنگ کے ذریعے اضافی قیمت کے ساتھ ہوگا۔
3 سال کی مفت مینٹیننسپیکج کے حصے کے طور پر صارفین کو 2 سال تک مفت دیکھ بھال ملے گی۔
اس میں بغیر کسی اضافی قیمت کے طے شدہ سروسنگ شامل ہے جو نئے خریداروں کے لیے سہولت اور طویل مدتی قیمت دونوں فراہم کرتی ہے۔
پیشکش کی دستیابیپروموشنل پیشکش محدود وقت کے لیے دستیاب ہے اور ملک بھر میں ڈیلرشپ پر اسٹاک کی دستیابی سے مشروط ہے۔ چنگان نے تصدیق کی ہے کہ یہ پیشکش 30 جون 2025 تک برقرار رہے گی۔
بک کرنے کا طریقہکمپنی نے دلچسپی رکھنے والے خریداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی گاڑی کی بکنگ کے لیے اپنی قریبی چنگان ڈیلرشپ پر جائیں۔ کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ محدود اسٹاک کی وجہ سے خواہشمند افراد جلد ریزرویشن کروالیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چنگان السوین چنگان السوین رعایت چنگان السوین مفت سروس چنگان پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چنگان السوین چنگان پاکستان چنگان السوین کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔