دہشت گردی کے معاملے پر ہم بھارت کو ٹکاکر جواب دیں گے، شیری رحمان
اشاعت کی تاریخ: 30th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف کی سفارتی کمیٹی کی رکن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے معاملے پر ہم بھارت کو ٹکا کر جواب دیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران شیری رحمان نے کہا کہ بھارتی سفارتی وفود کی پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ناکام رہی ہے۔
بھارت نے پاکستان کی حمایت کرنے پر کولمبیا سے مایوسی کا اظہار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے بہتان کو خارجہ پالیسی بنا لیا ہے، اقوام متحدہ کی ٹیموں نے دیکھ لیا پاکستان میں دہشت گردی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے مزید کہا کہ بھارت اب خطے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے، دنیا میں کسی بھی جنگ میں پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ بھارت سفارتی وفود کی پاکستان کے خلاف چارج شیٹ ناکام رہی، بھارت جو کر رہا ہے دنیا اس پر چوکنا ہوگئی ہے۔
سفارتی کمیٹی کی رکن نے یہ بھی کہا کہ بھارت انتہا پسند ہندوتوا ریاست بن چکی ہے، جسے دنیا دیکھ رہی ہے، اگر ثبوت کی بات کرتے ہیں تو وہ ہمارے پاس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آپ صاف و شفاف تحقیقات سے کیوں بھاگ رہے ہیں، 2 جوہری ممالک غلطیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔