خانیوال سٹیشن پر مسافر پل کا حصہ گرگیا، ریلوے ملازم جاں بحق،خاتون زخمی
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
خانیوال(این این آئی)خانیوال سٹیشن پر مسافر پْل کا ایک حصہ گرنے سے ریلوے ملازم ایس ٹی اکرام جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی ہوگئی۔ ترجمان ریلوے کے مطابق امدادی کارروائی مکمل کر لی گئیں،ریلوے ٹریفک معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ریسکیو 1122 کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ملبے سے نکالا جبکہ زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد دے کرہسپتال منتقل کر دیا گیا۔مسافر پل کا حصہ گرنے سے ریلوے ملازم ملبے کے نیچے دب گیا تھا، گرنے والا پل قیامِ پاکستان سے قبل تعمیر کیا گیا تھا۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے نوٹس لیتے ہوئے 3 افسران کو معطل کر دیا، جن میں گریڈ 18 کے ڈویژنل انجینئر عابد رزاق، گریڈ 17 کے اسسٹنٹ انجینئر راجا یوسف اور گریڈ 16 کے انسپکٹر برج ملتان محمد عادل شامل ہیں۔ریلوے نے معاملے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی جبکہ اس حوالے سے سی ای او ریلوے، آئی جی ریلوے اور ڈی ایس لاہور پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔