پاک بھارت جنگ ہماری مداخلت سے رُکی، ورنہ تباہی یقینی تھی؛ امریکی صدر
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ امریکی مداخلت کی وجہ سے رُکی، ورنہ اس لڑائی میں تباہی یقینی تھی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے میں اپنی حکومت کے کردار کو نمایاں کرتے ہوئے بتایا کہ اگر امریکا مداخلت نہ کرتا تو یہ تنازع ایک تباہ کن جوہری جنگ کی صورت اختیار کر سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کو جنگ کے دہانے سے واپس لائے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی قسم کی تجارت ممکن نہیں جہاں فریقین ایک دوسرے سے جنگ کررہے ہوں، تاہم پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں نے جنگ بندی کی جانب قدم بڑھایا، جس پر میں ان کا مشکور ہوں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم کسی بھی قوم سے بہتر لڑ سکتے ہیں، ہمارے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، لیکن ہمارا مقصد لڑائی نہیں بلکہ قیامِ امن ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتی تھی اور امریکا مداخلت کر کے دونوں ممالک کو بات چیت کی میز پر لایا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستانی لوگ اور وہاں کی قیادت عظیم ہیں، انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی ذاتی دوست قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے فریقین سے براہِ راست بات کی اور انہیں احساس دلایا کہ یہ صورتحال دنیا کو کہاں لے جا سکتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کی امید بھی ظاہر کی اور کہا کہ ایک ممکنہ جنگ بندی معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاری مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کسی سمجھوتے کے قریب ہے۔
ٹرمپ نے امریکا چین تجارتی اختلافات پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ چینی صدر سے ملاقات میں ٹیرف اور تجارت پر بات ہوگی اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک اپنے اقتصادی معاملات حل کر لیں گے۔
اس کے علاوہ امریکی صدر نے واضح کیا کہ غیر ملکی طلبا کو فی الحال ملک سے نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ جاری قانونی تنازع کے باوجود وہ چاہتے ہیں کہ غیر ملکی نوجوان امریکا میں تعلیم حاصل کرتے رہیں۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار، سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے امریکی کردار کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی اور اسلام آباد کے درمیان جنگ بندی کسی بیرونی دباؤ کے بغیر ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی صدر انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔