سانحہ 9 مئی اور جی ایچ کیو حملہ کے11 مقدمات کی سماعت آج خصوصی عدالت میں ہوگی۔
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
سانحہ 9 مئی سے متعلق 11 مقدمات کی سماعت آج انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ہوگی، جج امجد علی شاہ سماعت کریں گے۔ عدالت میں جیل ٹرائل کی بجائے باقاعدہ طور پر کچہری عدالت میں کارروائی کی جائے گی۔ آج کی سماعت کے دوران تمام 11 مقدمات کے باقی ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی جائیں گی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کو وکلاء کے ذریعے چالان کی نقول فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔ چالان کی نقول کی تقسیم کے بعد فردِ جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔ان مقدمات میں جی ایچ کیو گیٹ نمبر 4 پر حملے اور آرمی میوزیم حملے جیسے اہم کیسز بھی شامل ہیں، جنہیں سنگین نوعیت کا قرار دیا گیا ہے۔ آج کی سماعت میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شیخ رشید، عمر ایوب، شبلی فراز، عثمان ڈار اور شیریں مزاری بھی عدالت میں پیش ہوں گے۔ کچہری عدالت کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے چوکنا ہیں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔