ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو ہیرونہیں کہا جاسکتا؛ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا ہیرو صرف نواز شریف کو قرار دیا جا سکتا ہے ، رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو ہیرونہیں کہا جاسکتا؛ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا ہیرو صرف نواز شریف کو قرار دیا جا سکتا ہے ، رانا ثناء اللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 31 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ’ہیرو‘ نہیں کہا جا سکتا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا بھارت کےخلاف فتح پر فخر کے لمحے کے حق دار تو مسلح افواج ہیں۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے سیاسی مشیر کا کہنا تھا کہ ایٹمی پروگرام شروع کرنے کا کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے۔
ڈاکٹرعبدالقدیر خان سے متعلق وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کوبطورسائنسدان ہمیشہ یادرکھاجائے گا مگر وہ لیڈر نہیں، ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو ہیرو نہیں کہا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کو حکومتی سطح پر نظر انداز کیے جانے سے متعلق سوال کے جواب پر انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو وہ پذیرائی ملتی ہے، جس کے وہ حقدار تھے تاہم پاکستان کےایٹمی قوت بننے کا ہیرو صرف نواز شریف کوقراردیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مشیر نے مزید کہا کہ “یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کئی ممالک اور سائنسدانوں نے جوہری بم تیار کیے ہیں، اصل کامیابی جوہری تجربہ کرنے اور اپنے ملک کو ایٹمی طاقت قرار دینے میں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایٹمی تجربات کیے، اگر اس دن یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو شاید کبھی ایسا نہ ہوتا۔
انھوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ حسد اور بغض میں اندھے ہو کر کہتے ہیں نواز شریف دھماکے نہیں چاہتے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیس سکیل کے لیے پروموشن کورس کا اعلان ، کون کونسے سرکاری آفیسران پرموشن کورس کا حصہ بنیں گئے؟ فہرست سب نیوز پر بیس سکیل کے لیے پروموشن کورس کا اعلان ، کون کونسے سرکاری آفیسران پرموشن کورس کا حصہ بنیں گئے؟ فہرست سب نیوز پر بِٹ کوائن مائننگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو بجلی فراہم کرنے کے فیصلے پر آئی ایم ایف کا اظہار تشویش نائیجیریا میں موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب نے تباہی مچادی، 100 سے زائد افراد ہلاک سینیٹرمشاہدحسین کی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات، پاک بھارت کشید گی میں روس کے ‘مثبت غیرجانبدارانہ رویے’ پر اظہارِ تشکر وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئے پاک بھارت کشیدگی جوہری تباہی کا باعث بن سکتی تھی، ہم نے دونوں کو جنگ سے روکا: ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جا سکتا ہے نواز شریف
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔