خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائے گا: مشیر خزانہ کے پی کے
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
مشیرخزانہ خیبر پختون خواا مزمل اسلم—فائل فوٹو
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کا حجم 2000 ارب روپے جبکہ اخراجات 1800 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں۔
مشیرخزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے اگلے صوبائی بجٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں، ہمیں ضم اضلاع میں فنڈز لازمی لگانے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب تو گیارہواں این ایف سی ایوارڈ آنے والا ہے، ہمارا حصہ دیا جائے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے ہمارے پانچ چھ لوگوں کو بانیٔ پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم وفاق سے بھیک کیوں مانگیں؟
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تنخواہ میں اضافے کا تو نہیں کہہ سکتے لیکن تنخواہوں پر ٹیکس کم کرنے کا کہیں گے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ترقیاتی اخراجات میں 40 فیصد اضافہ کر رہے ہیں۔
صوبائی مشیر خزانہ نے کہا ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی، صحت کارڈ اور بس سروس پر زیادہ خرچ کریں گے۔
انہوں نے بتایا ہے صوبائی اسمبلی میں 13 جون کو پیش کیے جانے والا صوبائی بجٹ کاحجم 2000 ارب روپےجبکہ اخراجات 1800 ارب روپےکے لگ بھگ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا نے کہا
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔