پیپلزپارٹی بلتستان کے عہدیداروں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کے ذریعے جو قانون دیامر میں نافذ ہے وہ بلتستان میں بھی نافذ کیا گیا ہے۔ کچھ ناکام عناصر ایک صوبے میں دو الگ قوانین کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی بلتستان کے تمام اضلاع کی تنظیموں کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم غلام شہزاد آغا، بشارت ظہیر، سید محمد علی شاہ اور سید توقیر نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی سے لینڈ ریفارمز کی منظوری پر پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ لینڈ ریفارمز سے سب سے زیادہ بلتستان کے عوام مستفید ہونگے۔ لینڈ ریفارمز کے خلاف جھوٹے، بے بنیاد اور حقائق کے برعکس پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔ کچھ عناصر حقائق کا علم ہونے کے باوجود جان بوجھ کر ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان عناصر کو بخوبی علم ہے کہ اس سے بہتر لینڈ ریفارمز ممکن نہیں تاہم پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ کے بغض میں مبتلا ہو کر عوام میں منفی تاثر پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اس لینڈ ریفارمز کے ذریعے جو قانون دیامر میں نافذ ہے وہ بلتستان میں بھی نافذ کیا گیا ہے۔ کچھ ناکام عناصر ایک صوبے میں دو الگ قوانین کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔

انہوں نے کہا لینڈ ریفارمز نے ایک مذہبی جماعت کی سیاست کو دفن کر دیا ہے جبکہ کچھ لینڈ مافیاز کا دھندہ بند ہو چکا ہے جس کی وجہ سے وہ چیخ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی تمام تنظیمیں اور کارکنان اپنی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اجلاس میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حاجی گلبر خان اور دیگر حمایت کنندہ جماعتوں اور اراکین اسمبلی کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ، گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ سمیت تمام صوبائی قیادت اور گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اجلاس میں وزیر تعلیم گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا، پیپلز پارٹی بلتستان ڈویژن کے صدر بشارت ظہیر، ضلع سکردو کے صدر سید محمد علی شاہ، جنرل سکریٹری سید توقیر مہدی شاہ، ضلع گانچھے، ضلع کھرمنگ کے صدر غلام محمد پاروی، ضلع شگر، ضلع روندو کے صدر شیرباز ایڈووکیٹ، سٹی سکردو کے صدر افضل سمیال، گمبہ سکردو کے صدر حاجی تقی منگر، گلتری، پیپلز لائرز فورم کے بشارت ایڈووکیٹ سمیت دیگر تنظیموں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کوشش کر رہے ہیں لینڈ ریفارمز گلگت بلتستان پیدا کرنے کی پیپلز پارٹی بلتستان کے کے صدر

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے