پاکستان کا بھارت میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 31 مئی ۔2025 )ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ان واقعات میں خطرناک حد تک اضافے کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے،بھارت اپنے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائے.
(جاری ہے)
ترجمان نے کہا پاکستان بھارت میں بڑھتے اسلاموفوبک رجحانات پر شدید تشویش رکھتا ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تمام شہریوں کے مذہبی آزادی، تحفظ اور مساوی حقوق کو یقینی بنائے خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو. ترجمان دفتر خارجہ نے زور دیا کہ ایسے وقت میں جب دنیا کو تحمل، مفاہمت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی اشد ضرورت ہے، مذہبی منافرت کو سیاسی یا نظریاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا انتہائی افسوسناک ہے ترجمان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کا نوٹس لے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دفتر خارجہ بھارت میں
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔