UrduPoint:
2026-06-03@01:21:55 GMT

بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے، شہباز شریف

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے، شہباز شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 مئی 2025ء) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گرینڈ قبائلی جرگے نے مسلح تنظیموں کا قبائلی سطح پر مقابلے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچ قبائل صوبے میں علیحدگی کی کسی تحریک کا حصہ نہیں ہیں اور وہ صرف پاکستان کے قومی دھارے میں رہ کر اپنے حقوق کے لیے پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ اس قومی جرگے میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم نے جرگے سے خطاب میں کیا کہا؟

گرینڈ جرگے سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی جرگے کا انعقاد بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور پاکستان اپنی سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کا حصہ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

"بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے اور حالات کو ہر صورت خراب ہونے سے بچائیں گے۔"

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوششوں کو حکومت عوامی طاقت سے ناکام بنائے گی اور صوبے کے عوام کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔

حکومت نے گرینڈ جرگے کا انعقاد ایک ایسے وقت کیا ہے جب صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک غیرمعمولی تیزی سامنے آئی ہے۔

گزشتہ روز شورش زدہ سوراب کے علاقے میں بھی عسکریت پسندوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے دوران حملہ آوروں نے سرکاری املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

قومی جرگے میں فریقین کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا؟

گرینڈ جرگے سے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سمیت سیاسی اور قبائلی عمائدین نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان کی سکیورٹی سمیت دیگر اہم امور پر روشنی ڈالی۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں صوبے کی وہ حقیقی قیادت موجود نہیں تھی جو کہ موجودہ حالات میں شورش کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز کردار ادا کرسکتی ہے۔

بلوچستان میں قومی دھارے کی سیاست پر یقین رکھنے والی بلوچ قوم پرست جماعت، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے قائم مقام صدر ساجد ترین کہتے ہیں کہ قبائلی جرگوں کے فیصلے سرکار نہیں عوامی قیادت ہی کرتی ہے لیکن یہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت جو حالات ہیں انہیں طاقت کے زور پر کبھی بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ "آج جو جرگہ منعقد کیا گیا ہے یہ وہ جرگہ نہیں تھا جو کہ بلوچستان کی حقیقی قیادت یہاں منعقد کرتی رہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "جرگے میں فریقین کو مدعو کیا جاتا لوگوں کے تحفظات دور کرنے پر بات کی جاتی لیکن انہیں تو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔

"

ساجد ترین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ان کے بقول، "جرگوں کی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب فیصلے حقیقی عوامی قیادت کرتی، وہ عناصر نہیں جو ریاستی ایماء پر ایوانوں تک پہنچے ہوں۔"

بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اصل تحفظات کیا ہیں؟

بلوچستان میں سیاسی امور کے سینیئر تجزیہ کار میر خدا بخش مری کہتے ہیں کہ ریاست کو بلوچستان سے متعلق اپنے فیصلوں میں زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "بلوچستان میں حکومت کی مفاہمت کی پالیسی دراصل روز اول سے ہی تضادات کا شکار رہی ہے۔ صوبائی حکومت صوبے میں بالکل ڈیلیور نہیں کر رہی، جو علاقے اس وقت شدید شورش کی لپیٹ میں ہیں وہاں حکومت کی کوئی رٹ دکھائی ہی نہیں دیتی۔"

خدابخش مری کہتے ہیں کہ قومی جرگے کا انعقاد ایک خوش آئند عمل ہے لیکن اس جرگے کے فیصلوں کو تسلیم کون کرے گا۔

ان کے بقول، "بلوچستان کے حالات ملک کے تمام دیگر حصوں سے یکسر مختلف ہیں۔ ریاستی سطح پر ایسے عناصر کا سختی سے محاسبہ ہونا چاہیے جن کی پالیسیوں سے صوبے میں آج حالات اس قدر خراب ہیں کہ کوئی فرد خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔"

کیا گرینڈ جرگہ دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکے گا؟

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار میجر ریٹائرڈ عمر فاروق کہتے ہیں کہ بلوچستان کی مسلح تحریک اس وقت نوابوں اور سرداروں کے ہاتھوں سے یکسر نکل چکی ہے اس لیے وہ اس صورتحال کی بہتری میں کوئی خاطرہ خواہ بہتری نہیں لا سکتے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ریاست کے خلاف جو عناصر ہتھیار اٹھا کر لڑ رہے ہیں وہ اب سرداروں اور نوابوں کے فیصلوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ لہٰذا حکومت کو ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کو کم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔" عمر فاروق کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں مفاہمت کی حکومتی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ماضی میں مفاہمت کے لیے ہونے والی بعض کوششیں سود مند ثابت ہوئی تھیں لیکن اس پیش رفت پر مزید کام نہیں کیا گیا۔

ادارت: عرفان آفتاب

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلوچستان میں بلوچستان کی کہ بلوچستان بلوچستان کے کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ شہباز شریف کرتے ہوئے قومی جرگے جرگے میں انہوں نے نہیں کیا کیا گیا

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف