UrduPoint:
2026-07-24@03:22:28 GMT

بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے، شہباز شریف

اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT

بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے، شہباز شریف

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 31 مئی 2025ء) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گرینڈ قبائلی جرگے نے مسلح تنظیموں کا قبائلی سطح پر مقابلے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچ قبائل صوبے میں علیحدگی کی کسی تحریک کا حصہ نہیں ہیں اور وہ صرف پاکستان کے قومی دھارے میں رہ کر اپنے حقوق کے لیے پر امن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ اس قومی جرگے میں وزیر اعظم شہباز شریف سمیت فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم نے جرگے سے خطاب میں کیا کہا؟

گرینڈ جرگے سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قومی جرگے کا انعقاد بلوچستان کے عوام کے تحفظات دور کرنے کے لیے کیا گیا ہے اور پاکستان اپنی سلامتی پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے اعلان کیا کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں بلوچستان کا حصہ مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

"بلوچستان کی محرومیوں پر توجہ دیں گے اور حالات کو ہر صورت خراب ہونے سے بچائیں گے۔"

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوششوں کو حکومت عوامی طاقت سے ناکام بنائے گی اور صوبے کے عوام کے تمام تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام کیا جائے گا۔

حکومت نے گرینڈ جرگے کا انعقاد ایک ایسے وقت کیا ہے جب صوبے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک غیرمعمولی تیزی سامنے آئی ہے۔

گزشتہ روز شورش زدہ سوراب کے علاقے میں بھی عسکریت پسندوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا جس میں ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہدایت اللہ بلیدی ہلاک ہو گئے تھے۔ حملے کے دوران حملہ آوروں نے سرکاری املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

قومی جرگے میں فریقین کو کیوں مدعو نہیں کیا گیا؟

گرینڈ جرگے سے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سمیت سیاسی اور قبائلی عمائدین نے بھی خطاب کیا اور بلوچستان کی سکیورٹی سمیت دیگر اہم امور پر روشنی ڈالی۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جرگے میں صوبے کی وہ حقیقی قیادت موجود نہیں تھی جو کہ موجودہ حالات میں شورش کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز کردار ادا کرسکتی ہے۔

بلوچستان میں قومی دھارے کی سیاست پر یقین رکھنے والی بلوچ قوم پرست جماعت، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے قائم مقام صدر ساجد ترین کہتے ہیں کہ قبائلی جرگوں کے فیصلے سرکار نہیں عوامی قیادت ہی کرتی ہے لیکن یہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت جو حالات ہیں انہیں طاقت کے زور پر کبھی بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ "آج جو جرگہ منعقد کیا گیا ہے یہ وہ جرگہ نہیں تھا جو کہ بلوچستان کی حقیقی قیادت یہاں منعقد کرتی رہی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "جرگے میں فریقین کو مدعو کیا جاتا لوگوں کے تحفظات دور کرنے پر بات کی جاتی لیکن انہیں تو مدعو ہی نہیں کیا گیا۔

"

ساجد ترین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی محرومیوں کو دور کرنے کے لیے حکومت نے کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ ان کے بقول، "جرگوں کی افادیت اس وقت سامنے آتی ہے جب فیصلے حقیقی عوامی قیادت کرتی، وہ عناصر نہیں جو ریاستی ایماء پر ایوانوں تک پہنچے ہوں۔"

بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اصل تحفظات کیا ہیں؟

بلوچستان میں سیاسی امور کے سینیئر تجزیہ کار میر خدا بخش مری کہتے ہیں کہ ریاست کو بلوچستان سے متعلق اپنے فیصلوں میں زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "بلوچستان میں حکومت کی مفاہمت کی پالیسی دراصل روز اول سے ہی تضادات کا شکار رہی ہے۔ صوبائی حکومت صوبے میں بالکل ڈیلیور نہیں کر رہی، جو علاقے اس وقت شدید شورش کی لپیٹ میں ہیں وہاں حکومت کی کوئی رٹ دکھائی ہی نہیں دیتی۔"

خدابخش مری کہتے ہیں کہ قومی جرگے کا انعقاد ایک خوش آئند عمل ہے لیکن اس جرگے کے فیصلوں کو تسلیم کون کرے گا۔

ان کے بقول، "بلوچستان کے حالات ملک کے تمام دیگر حصوں سے یکسر مختلف ہیں۔ ریاستی سطح پر ایسے عناصر کا سختی سے محاسبہ ہونا چاہیے جن کی پالیسیوں سے صوبے میں آج حالات اس قدر خراب ہیں کہ کوئی فرد خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔"

کیا گرینڈ جرگہ دیرپا امن کی راہ ہموار کر سکے گا؟

سکیورٹی امور کے تجزیہ کار میجر ریٹائرڈ عمر فاروق کہتے ہیں کہ بلوچستان کی مسلح تحریک اس وقت نوابوں اور سرداروں کے ہاتھوں سے یکسر نکل چکی ہے اس لیے وہ اس صورتحال کی بہتری میں کوئی خاطرہ خواہ بہتری نہیں لا سکتے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "ریاست کے خلاف جو عناصر ہتھیار اٹھا کر لڑ رہے ہیں وہ اب سرداروں اور نوابوں کے فیصلوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔ لہٰذا حکومت کو ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کو کم کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔" عمر فاروق کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں مفاہمت کی حکومتی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ماضی میں مفاہمت کے لیے ہونے والی بعض کوششیں سود مند ثابت ہوئی تھیں لیکن اس پیش رفت پر مزید کام نہیں کیا گیا۔

ادارت: عرفان آفتاب

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بلوچستان میں بلوچستان کی کہ بلوچستان بلوچستان کے کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ شہباز شریف کرتے ہوئے قومی جرگے جرگے میں انہوں نے نہیں کیا کیا گیا

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

سٹی 42: سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت کے پندرہ روزہ نظام کے بجائے روزانہ قیمتوں کے تعین کے مجوزہ فیصلے پر وضاحت طلب کی گئی۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے روزانہ قیمتوں کے تعین کے ممکنہ مہنگائی پر اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

  نوٹس متن  کے مطابق مجوزہ نظام سے ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے،توجہ دلاؤ نوٹس میں کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

نوٹس میں صارفین کو قیمتوں کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا.

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری