کوئٹہ سے انتہائی افسوسناک خبر، جانی نقصان کی اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 31st, May 2025 GMT
کوئٹہ(نیوز ڈیسک)کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ کلی منگل میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے حملے میں قبائلی رہنماء کوئلہ کان مالک سردار عبدالسلام بازئی بھائی سمیت بم دھماکے میں شہید جبکہ 6 افراد زخمی دہشت گردوں نے کوئلہ کان اور سامان کو نذر آتش کردیا اور پہاڑوں کی طرف فرار ہوگئے۔
کوئٹہ کے نواحی علاقے ہنہ، اوڑک کلی منگل کے قریب کوئلہ کانوں پر فتنہ الہندوستان سے وابستہ 2 سو کے قریب مسلح دہشتگردوں نے اچانک حملہ کردیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے کوئلہ کانوں اور وہاں موجود سامان کو نذرِ آتش کردیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کوئلہ کان مالکان موقع پر پہنچے اور حملہ آوروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ مسلح دہشتگرد فائرنگ کے بعد پہاڑوں کی طرف فرار ہوگئے، تاہم جاتے جاتے انہوں نے مختلف مقامات پر بارودی مواد نصب کر دیا۔
کوئلہ کان مالکان اور ان کے ساتھی تعاقب میں آگے بڑھنے کے دوران نصب بم کی زد میں آ گئے اور بم زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں کوئلہ کان مالک قبائلی رہنماء سردار عبدالسلام بازئی اور ان کا بھائی عبدالنافع بازئی موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ ان کے 6 ساتھی زخمی ہوگئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جاں بحق اور زخمیوں کی شناخت ۔عبد السلا م ولد عبد اللہ جان قوم کاکڑ بازئی سکنہ کلی منگل اور عبد النافع ولد عبد اللہ جان قوم کاکڑ بازئی سکنہ کلی منگل ہنہ زخمیوں میں جانان ، سیف الرحمان، سمیع اللہ، محمد آصف اور نصیب اللہ کے ناموں سے ہوئیں۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید کاروائی شروع کردی ہے۔
مزیدپڑھیں:کامیابی پر جتنا شکر ادا کروں کم ہے، جیولن تھرور ارشد ندیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔