’’کامیاب لوگوں کے پیٹھ پیچھے باتیں کرنا ناکام ہونیوالوں کی مجبوری ہے”
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
قومی ٹیم کے رکن بابراعظم کے والد اعظم صدیقی نے سابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل کے متنازع تبصرے پر انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔حالیہ پوڈکاسٹ میں سابق کرکٹر کامران اکمل نے محمد رضوان اور بابراعظم کو ٹی20 انٹرنیشنلز ڈراپ کرنے سے متعلق فیصلے کی حمایت کی تھی، جو بابر کے والد کو پسند نہ آئی۔انہوں نے ایک پُرانی تصویر شیئر کی جس میں کامران اکمل اپنے چھوٹے کزن بابراعظم کیساتھ موجود تھے، اس فوٹو کیساتھ اعظم صدیقی نے کیپشن میں لکھا کہ ‘یہ بچہ (بابر) کبھی آپ کی کپتانی میں نہیں کھیلا، لیکن آپ نے اس کی کپتانی میں کھیلا اور صفر پر آؤٹ ہوئے جب کہ اس دن اس نے سنچری اسکور کی’۔اعظم صدیقی نے اپنے کیپشن میں مزید لکھا کہ ‘اشفاق احمد نے ٹھیک کہا تھا کامیاب لوگوں کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا ناکام ہونے والوں کی مجبوری ہے’۔بابراعظم کے والد نے ایک ترک محاروے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ “اگر کوئی کہے کہ وہ آپ کے بھائی ہیں، تو انہیں یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ وہ ہابیل کی طرح ہیں یا قابیل”۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔