مریم نفیس کا کرکٹر اعظم خان کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ مداح جان کر حیران
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
کرکٹ کے میدان میں جہاں ہر طرف شور و ہنگامہ ہوتا ہے، وہیں ایک ایسا لمحہ آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ معروف اداکارہ مریم نفیس نے اپنے ایک بیان سے مداحوں کو چونکا دیا، جب انہوں نے قومی کرکٹر اعظم خان سے اپنے انوکھے رشتے کا انکشاف کیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مریم نفیس پاکستان سپر لیگ کے ایک میچ کے دوران اپنے ننھے بیٹے موسیٰ کو ساتھ لیے گراؤنڈ میں موجود تھیں۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے نہ صرف ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کی حمایت کا اظہار کیا بلکہ کرکٹر اعظم خان سے اپنی گہری قربت کا بھی ذکر چھیڑ دیا۔
مریم نے خوش دلی اور اپنائیت کے ساتھ بتایا، ’’اعظم میرے لیے بیٹے کی طرح ہے۔ میں نے خود ایک بار اس سے کہا تھا کہ تم میرے بچے جیسے ہو، اور اُس دن سے وہ مجھے ماں ہی کہتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اعظم انہیں محبت سے ’منہ بولی ماں‘ کہہ کر پکارتا ہے، اور یہ رشتہ ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
اداکارہ نے وضاحت کی کہ وہ صرف ٹیم سپورٹ کرنے نہیں، بلکہ اعظم خان کے لیے خاص طور پر گراؤنڈ میں موجود تھیں۔ ’’اسلام آباد یونائیٹڈ سے جڑی میری جذباتی وابستگی اعظم خان کی وجہ سے ہے۔‘‘ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک صاف ظاہر کر رہی تھی کہ یہ رشتہ دل سے جُڑا ہوا ہے۔
میزبان نے جب ان سے کرکٹ کے تکنیکی پہلوؤں پر بات چیت کا تذکرہ کیا، تو مریم ہنستے ہوئے بولیں، ’’ہماری باتیں کرکٹ سے زیادہ ذاتی اور خوشگوار موضوعات پر ہوتی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ کھیل کے میدان میں بھی انسانی رشتوں کی گرماہٹ ایک الگ ہی خوشی دیتی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔