پنجاب پولیس کی خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ؛4 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
سٹی 42:پنجاب پولیس ڈیرہ غازی خان نے خوارجی دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے چار دہشت گرد ہلاک کردیے
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈی جی خان پولیس کا کوٹ مبارک کے علاقے میں مقابلہ ہوا 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے ، جن سے اسلحہ برآمد کیا گیا ، سرچ آپریشن جاری ہے ، پولیس کو پنجاب، خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے کوٹ مبارک میں خوارجی دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملی، خوارجی دہشت گرد مختلف مقامات پر شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رہے تھے، اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیموں نے فوری پیش قدمی کی، علاقے کا محاصرہ کرکے آپریشن کا آغاز کیا گیا، خوارجی دہشتگرد بھاری اسلحہ کے ساتھ پولیس ٹیموں پر حملہ آور ہوئے، پنجاب پولیس نے بروقت، موثر کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا، پولیس کی بھرپور کارروائی میں 4 خوارجی دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے،
خوفناک زلزلہ نے عمارتیں ہلا کر رکھ دیں
دیگر دہشت گرد جھاڑیوں اور ٹیلوں کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ،پولیس نے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود بھی برآمد کیا، پولیس آپریشن کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ سویپ آپریشن جاری ہے دیگر شرپسند عناصر بھی جلد از جلد انجام تک پہنچانے کا عزم کیا ہے ،
آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی نگرانی میں ڈی پی او سید علی کی قیادت میں پنجاب پولیس کی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں موجود رہیں، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے چار خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر ڈیرہ غازی خان پولیس کو شاباش دی ،
فتنہ الہندوستان ؛ پاکستان نے بلوچستان مین انڈین کتھ پتلیوں کی تمام نقابیں نوچ کر سیدھا نام رکھ دیا
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور پنجاب پولیس خوارجی دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے، ملک دشمن عناصر کو کبھی ان کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے،
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خوارجی دہشت گردوں خوارجی دہشت گرد دہشت گردوں کے دہشت گرد ہلاک پنجاب پولیس
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔