شہری ٹریفک حادثات کے زخمیوں کی بلاخوف مدد کریں، ادارے تعاون کریں گے، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے عوام سے اپیل کی کہ قانونی پیچیدگیوں کا خوف بے بنیاد ہے، زخمی کی مدد کریں، ایک جان بچانا پوری انسانیت بچانے کے مترادف ہے، جان بچانا صرف ایک عمل نہیں بلکہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) آف پولیس سندھ غلام نبی میمن نے کراچی کے علاقے شرافی گوٹھ میں افسوس ناک ٹریفک حادثے میں اسسٹنٹ پروفیسر افتخار احمد کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر کہا کہ زخمی کو بروقت اسپتال منتقل کر دیا جاتا تو قیمتی جان کو بچایا جا سکتا تھا، شہری زخمیوں کی بلاخوف مدد کریں اور ادارے تعاون کریں گے۔ اپنے ایک بیان میں آئی جی سندھ نے کہا کہ حادثے کی صورت میں مدد کرنا ہر شہری کا اخلاقی، قانونی اور مذہبی فرض بھی ہے، خون کا ضیاع، مہلک زخم اور غیر ضروری تاخیر متاثرہ شہری کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ قانونی پیچیدگیوں کا خوف بے بنیاد ہے، زخمی کی مدد کریں، ایک جان بچانا پوری انسانیت بچانے کے مترادف ہے، جان بچانا صرف ایک عمل نہیں بلکہ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ حادثے پر خاموشی نہیں، حرکت کیجیے، زخمی کی مدد کیجیے کیونکہ ہر زندگی قیمتی ہے، شہری بلا خوف مدد کریں، پولیس اور سول ادارے مکمل تعاون کریں گے۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ مدد کرنے والے شہری "مسیحا" ہیں، انہیں عزت و تحفظ دیا جائے گا، حادثے کے بعد مضروب کی مدد سے انکار نہ کریں، چھوٹی سی کوشش کسی کی زندگی بچا سکتی ہے، شہری حادثات کے بعد لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے قدم بڑھائیں۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے مزید کہا کہ سول اداروں بشمول پولیس کے فرائض اور ذمہ داری عوامی تعاون اور سپورٹ کے بغیر مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غلام نبی میمن جان بچانا کی مدد کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔