Daily Ausaf:
2026-07-24@04:37:56 GMT

محبت رسول ﷺاور گستاخانہ فتنہ

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

پاکستان میں گستاخانہ فتنےکو پروان چڑھانے میں جو مکروہ قوتیں اوران کےراتب خور ملوث ہیں،اب آہستہ آہستہ ان کے چہروں سے نقاب سرک رہے ہیں، مقدس شخصیات کی توہین میں گرفتار گستاخوں کےحقوق کا سیاپا ڈالنے والے ابلیسی ایجنٹوں کو کوئی بتائے کہ ہم آقا ومولیٰﷺکےحقوق کی جنگ آخری سانسوں تک جاری رکھیں گے، ہم اپنی تحریروں، تقریروں اور عمل کےذریعےمحبت رسول ﷺ عام کرتےرہیں گے، گلشن جمال کراچی میں نوجوانوں کے اجلاس سے خطاب کرتےہوئے اس خاکسار نےعرض کیا،کہ عالمی صہیونی ایجنٹوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم مسلمان حضور ﷺکی سنتوں پر عمل کرنے والے بن جائیں ،محبت رسول ﷺ اسی مسلمان کے دل میں سما سکتی ہے کہ جو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو،نئی نسل کو سیکولر شدت پسند بنا کر ان کے دلوں سے محبت رسول ﷺکھرچنے کی کوششیں کرنے والے عقل وخرد سے فارغ عالمی اندھوں اور ان کے مقامی ٹاوٹوں کو کوئی بتائےکہ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو یہ ضابطہ دیاہے کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا اس کو اس کی رفاقت نصیب ہو گی۔حضرت انس سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺسے پوچھا ،یارسول اللہ ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺنے فرمایا تونے قیامت کے لئے کیا تیاری کررکھی ہے؟عرض کیا میں نے روزقیامت کے لئے اتنی زیادہ نمازوں ، روزوں اورصدقات کے ساتھ تیاری نہیں کی لیکن اللہ اور رسول سے محبت رکھتا ہوں ، آپﷺنے فرمایاتو اپنے محبوب کے ساتھ ہی ہوگا ۔(بخاری)
اس مبارک اور اہم ضابطہ پر صحابہ کرام ؓجس قدرخوش ہوئے اس کا بیان حضرت انس ؓ کی زبانی سنیئے فرماتے ہیں اسلام لانے کے بعد آج تک ہم کبھی اتنے خوش نہیں ہوئے جتنے آج آپ کایہ فرمان سن کرخوش ہوئےکہ محبت کرنے والے کومحبوب کی رفاقت نصیب ہوگی ‘پھر اسی خوشی میں وہ جھوم اٹھے اور کہنے لگے،اگرچہ میں نے اِن پاکیزہ ہستیوں جیسے عمل نہیں کئےمگرمیں حضور ﷺ،ابوبکروعمررضی اللہ تعالی عنہماکے ساتھ محبت ضرور رکھتا ہوں اور پرامید ہوں کہ اسی محبت کی وجہ سے مجھےان کی رفاقت نصیب ہوگی ۔حضور علیہ السلام کی محبت اس قدراہم اورافضل واعظم ہےکہ خداوندقدوس ارشادفرماتے ہے،ترجمہ ’’تم فرما اگرتمہارے باپ اوربیٹےاورتمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہاراکنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سوداجس کے نقصان کاتمہیں ڈرہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اوراس کے رسول کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھ ،یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے‘‘ (سورہ توبہ) اس آیت کریمہ میں واضح طورپر معلوم ہواکہ جسے دنیا میں کوئی معززیاعزیزیامال اللہ اور رسول سے زیادہ عزیزہو وہ بارگاہ الٰہی میں مردود ہے اورمستحق عذاب ہے،تاریخ گواہ ہے کہ رسول اکرم ﷺکے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نےاپنے والہانہ عشق ومحبت سے سرشارہوکر جس شانداراندازمیں اپنے آقاومولی ﷺسے اپنی عقیدت کااظہارکیا اس کی نظیر نہیں مل سکتی،بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قسم اٹھا رکھی تھی کہ جب ہم صبح اٹھیں گے تو سب سے پہلے نبی علیہ السلام کا دیدارکریں گے، چنانچہ وہ نبی علیہ السلام کے حجرہ کے باہر بیٹھ کر انتظار کرتے جب آپ ﷺتشریف لاتے تو آپ ﷺکا دیدار کرنے کے لئے آنکھیں کھولتے،بعض حضرات رات کے وقت گھر سوئےہوئےہوتے آنکھ کھل جاتی تو نبی علیہ السلام کے خیال مبارک سے دل اداس ہوجاتا ،گھر سے باہر آکر نبی ﷺکے حجرات کی زیارت کرتے رہتے، گھنٹو ں بیٹھے دیکھتے رہتے کہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں میرامحبوب ﷺ سویا ہواہے،ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لائےاورکچھ عرصہ صحبت نبوی ﷺمیں رہنے کے بعد گھر واپس گئے ،وہاں ان کے کسی عورت کے ساتھ مراسم اور تعلقات تھے،وہ عورت ان سے ملنے کے لئے آئی، انہوں نے رخ پھیرلیا،وہ کہنے لگی ،کیابات ہوئی ؟وہ بھی وقت تھا جب تم میری محبت میں بے قرارہوکر گلیوں کے چکر لگاتے تھے ،مجھے ایک نظر دیکھنے کے لئے تڑپتے تھے ،میری ملاقات کے شوق میں ٹھنڈی آہیں بھرتے تھے،اب میں خودچل کرتمہارے پاس ملنے کے لئے آئی ہوں ،تو تم نے آنکھیں بندکرلیں،وہ فرمانے لگےکہ میں ایسی ہستی کودیکھ کر آیاہوں کہ اب میری نگاہیں کسی غیر پر نہیں پڑسکتیں ۔میں دل کاسوداکرچکا ہوں،وہ عورت ضدمیں آکرکہنے لگی اچھا ایک مرتبہ میری طرف دیکھ تولو،اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفرمایا،اے عورت !چلی جاورنہ میں تلوارسے تمہاراسرقلم کردوں گا۔
ایک حبشی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سرکے بال گھنگریالے تھے وہ غسل کرنے کے بعد چاہتے کہ سرکے بالوں میں مانگ نکالیں مگر نہ نکلتی،انہیں بہت حسرت رہتی کہ میراسر بھی نبی علیہ السلام کے سرمبارک سے مشابہہ ہونا چاہئے ۔ ایک دن فرط جذبات میں انہوں نے لوہے کی سلاخ گرم کی اور سرکے درمیان میں پھیر دی ۔ چمڑااور بال جلنے کی وجہ سے سر کے درمیان ایک لکیر نظر آنے لگی،لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اتنی تکلیف کیوں اٹھائی ؟فرمایا ،تکلیف تو بھول جائوں گا جب میرے سرپر یہ مانگ اسی طرح نظر آئے گی جس طرح نبی علیہ السلام کے سرپر نظر آتی ہے،عشق رسولﷺ میں صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےبھی بہت اعلیٰ اورنمایاں مثالیں پیش کیں،ان کےسینے عشق نبوی ﷺسے معمورتھے اور ان کے پاکیزہ قلوب اس نعمت کے حصول پر مسرور تھے۔جنگ احد میں یہ افواہ چاروں طرف پھیل گئی کہ نبی اکرم ﷺشہید ہوگئے ہیں مدینہ کی عورتیں شدت غم سے روتی ہوئی گھروں سے باہر نکل آئیں،ایک انصاریہ صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگیں کہ میں اس بات کو اس وقت تک تسلیم نہیں کروں گی جب تک کہ خود اس کی تصدیق نہ کرلوں ۔چنانچہ وہ اونٹ پر سوار ہوکر احد کی طرف نکل پڑیں جب میدان جنگ کے قریب پہنچیں تو ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سامنے سے آتےہوئے دکھائی دیئے ، ان سے پوچھنے لگیں کہ محمد ﷺکا کیا حال ہے؟انہوں نےکہامعلوم نہیں لیکن تمہارے بھائی کی لاش فلاں جگہ پڑی ہے،وہ اس خبر کوسن کر ذرابھی نہ گھبرائی اور آگے بڑھ کردوسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ’’مابال محمدﷺ‘‘ انہوں نےجواب دیا معلوم نہیں مگر تمہارے والدکی لاش فلاں جگہ میں نےدیکھی ہےیہ خبر سن کربھی پریشان نہ ہوئی بلکہ آگے بڑھ کر تیسرے صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا ’’مابال محمدﷺ‘‘ انہوں نے بتایاکہ میں نے تمہارے خاوند کی لا ش فلاں جگہ دیکھی ہے ،یہ سن کر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی پھر پو چھا کہ نبی ﷺکی خیریت کے بارےمیں بتائو کسی نے کہاکہ میں نے نبی ﷺکو فلاں جگہ بخیریت دیکھا ہے تواس عورت نے آپ ﷺکے قریب پہنچ کر چادرکا ایک کونہ پکڑکر کہا(ہر مصیبت نبی ﷺکے بعد آسان ہے) اس سے پتا چلتا ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے قلوب میں جو محبت نبیﷺ کے لئے تھی وہ والد،بھائی اور شوہر کی محبت سے بھی زیادہ تھی یہی ایمان کامل کی نشانی بتائی گئی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: صحابی رضی اللہ تعالی نبی علیہ السلام کے محبت رسول ﷺ نے کے لئے انہوں نے کے ساتھ کہ میں کے بعد

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار