Daily Ausaf:
2026-07-24@07:23:32 GMT

تقدیر، جبر و اختیار: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جائزہ

اشاعت کی تاریخ: 1st, June 2025 GMT

یہ وہ موضوع ہے جس پر قلم اٹھانا اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق اور دل و روح کے نور سے ہی ممکن ہے، محض سطحی علم اور عقل سے نہیں۔ تقدیر، جبر اور اختیار کے مسئلے پر صحابہ، تابعین، اولیاء اور حکماء نے ہمیشہ غور کیا، مگر ہر بار اس کا جواب دل کی روشنی اور روح کی بصیرت سے ہی جڑا رہا۔
انسان کہاں کھڑا ہے؟انسان ایک ایسا راز ہے جو ازل و ابد کے درمیان کھڑا ہے۔ وہ فانی ہے مگر ابدی حقیقت کا حامل ہے۔
کیا وہ مجبور ہے یا مختار؟ کیا اس کے اعمال پہلے سے لکھے جا چکے ہیں یا وہ خود اپنی تقدیر کا ذمہ دار ہے؟یہ سوال ہر انسان کے شعور میں ابھرتا ہے۔
قرآنی آیات:’’تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو‘‘ (بنی اسرائیل 17:23)
ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) سے پیدا کیا(القمر 54:49)
’تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے‘‘(الانسان 76:30)
’’جو چاہے ایمان لائے، اور جو چاہے کفر کرے‘‘ (الکہف 18:29)
یہ آیات ہمیں توازن سکھاتی ہیں: انسان کو اختیار حاصل ہے، مگر وہ اللہ کی مشیت کے دائرے میں ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ:- ایمان کی تعریف: ’’تقدیر کے خیر و شر پر ایمان لانا‘‘(صحیح مسلم)
’’عمل کرتے رہو، ہر انسان کو اسی کے لیے آسانی دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا‘‘ (صحیح بخاری)
اہل سنت کا عقیدہ:- اللہ ہر چیز کا خالق ہے، مگر انسان کو عقل و اختیار دیا گیا ہے۔ جزا و سزا اسی اختیار پر مبنی ہے۔
اہل عرفان کا فہم:- ابو طالب مکی: ’’اللہ کا علم مشاہدہ ہے، مداخلت نہیں‘‘۔
بایزید بسطامی: ’’میں نے اپنی مشیت فنا کی، تب اس کی مشیئت میں جینا سیکھا‘‘
ابن عربی: ’’انسان عبد ہے؛ اس کے پاس نہ مکمل جبر ہے نہ مکمل اختیار‘‘۔
مولانا رومی: ’’تو کیا جانے تقدیر کہاں سے آئی؟ تیرے دل کا خیال بھی ایک راز ہے۔‘‘
عبدالقادر جیلانی: ’’عمل کر، اگر اختیار نہ ہوتا تو حساب نہ لیا جاتا‘‘۔
دعا، استغفار اور صدقہ کا اثر:- قرآن: ’’اللہ انہیں عذاب نہ دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں‘‘ (الانفال 8:33 )
سورہ نوح: استغفار سے بارش، مال، اور اولاد میں اضافہ۔
حدیث: ’’تقدیر کو صرف دعا ہی بدل سکتی ہے‘‘ (ترمذی)
خفیہ صدقہ رب کے غضب کو بجھا دیتا ہے(سیوطی)
روحانی خلاصہ:- تقدیر نہ مکمل قید ہے، نہ مکمل آزادی۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس میں انسان اپنی خودی کو فنا کرکے رب کی رضا میں جیتا ہے-1 تقدیر پر ایمان فرض ہے-2 انسان کو اختیار دیا گیا ہے مگر اللہ کی مشیئت کے تحت-3دعا، صدقہ، اور استغفار سے تقدیر میں نرمی آ سکتی ہے-4 اہل سنت کا عقیدہ توازن پر مبنی ہے: نہ مکمل جبر، نہ مکمل اختیار’’اللہ کا علم کامل ہے، ہمارا اختیار محدود مگر حقیقی ہے، اور جزا و سزا عدل پر ہے‘‘۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: انسان کو

پڑھیں:

سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت