چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینا امریکی وکیل کو مہنگا پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, June 2025 GMT
لاہور:
مصنوعی ذہانت پر آنکھیں بند کر کے اعتبار نہ کیجیے ورنہ ممکن ہے، امریکی ریاست، اتہا کے ممتاز وکیل، رچرڈ بیڈنر کی طرح مشکل میں پھنس جائیں۔
موصوف نے ایک مقدمے کے سلسلے میں ChatGPTسے مدد لی اور اپنا جواب مکمل کرکے ریاستی کورٹ آف اپیلز میں پیش کیا۔
فریق مخالف کے وکیل نے جواب پڑھا تو اس میں کئی غلطیاں پائیں۔ سنگین غلطی یہ تھی کہ جناب ChatGPTنے حوالہ دینے کی خاطر اپنی طرف سے ایک مقدمے کا فیصلہ گھڑ لیا۔
حقیقتاً اس کیس و فیصلے کا کوئی وجود نہ تھا۔غلطیاں قدرتاً عدالت کو ناگوار گذریں۔اس نے کہا’’مقدمہ لڑنے کی تیاری میںChatGPT سے مدد لینا جائز مگر یہ وکیل کی ذمے داری کہ وہ معلومات کی جانچ پرکھ کرے جس میں رچرڈ بیڈنرناکام رہے۔‘‘
عدالت نے بطور سزا حکم دیا، کیس کے تمام اخراجات رچرڈ ادا کرے نیز ایک مقامی غیر منافع بخش قانونی تنظیم کو 1 ہزار ڈالر چندہ دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی جس پر انکی 8 بیٹیاں عدالت کے باہر دھاڑیں مار کر روتی رہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں درخواست گزار غلام حسین نے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو انکے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے لہٰذا عدالت انہیں بازیاب کرا کے ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے۔
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کرچکی ہیں اور ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔ عدالت نے خاتون کے بیان کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔
عدالتی فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں شبنم بی بی کی پہلی شادی سے ہونے والی بیٹیاں زار و قطار روتی رہیں۔
بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کردیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔ عدالتی حکم کے بعد شبنم بی بی اپنے شوہر غلام حسین کے ہمراہ روانہ ہوگئیں۔